فکر ونظر کی کشمکش

تحریر: ایوب مظہر نظامی، کشن گنج

کوئی بھی فرد، تنظیم یا جماعت اس وقت تک بلندیوں کا سفر طے کرتی ہے جب تک وہ اپنی "حد اوسط” سے تجاوز نہیں کرتی، لیکن جب وہ اپنی اوسط تجاوز کرتی ہے تو پھر وہیں سے پستیوں کا سفر شروع ہو جاتا ہے، یہ اصول ہر جگہ کار فرما ہے، کسی کی فکر ونظر میں اعتدال رہے تو وہ گمراہ نہیں ہوتا اور دل و دماغ متوازن رہے تو متعصب نہیں ہوتا، شعوری طور پر اس اصول کو محسوس کرنے کے باوجود ہماری فکر و نظر اور دل و دماغ کے بے اعتدالیوں نے ہمیں ہماری جماعت کے لئے نہیں بلکہ اپنے مشرب، علاقے اور درس گاہ کے لئے متعصب بنا دیا ہے، ہمارا یہ فعل جماعت کے لئے کتنا مضر ہے وہ ارباب فکر و نظر سے مخفی نہیں، حج کا مہینہ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ حج کا اجتماع قومی، فخر، نسلی عصبیت، شخصی وجاہت اور سیاسی ہنگاموں کا آئینہ دار نہیں بلکہ جذبۂ عبودیت کا اظہار اور خطاؤں پر ندامت کے لئے ہے، یہ عالمگیر اجتماع اس بات کا بھی روشن استعارہ ہے کہ اگر ایمان و عقائد سلامت اور افکار و نظریات استوار رہے تو پھر رنگ و نسل، فکر و فن، زمان و مکان اور مشرب و درس گاہ کی بنیادوں پر اسلام میں کوئی تفریق نہیں ہے، یہ عالمگیر اجتماع ہمارے لئے تذکیر ہے ، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام نے ہمیں وحدت اور اشتراک عمل کا سبق دیا ہے، کیونکہ ان میں ہی قوت اور مرکزیت کا راز پوشیدہ ہے ، اور آپسی گروہ بندی میں افتراق و انتشار جو اللہ اور اس کے حبیب کو پسند نہیں،
حرم شریف میں قدم رکھتے ہی ہماری فکر و نظر کی بے اعتدالیاں اور دل و دماغ کا تعصب ایک دم سے پانی کے بلبلے کی طرح بیٹھ جاتا ہے، وہاں کوئی رضوی اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہوئے کسی اشرفی کے ساتھ کاندھا جوڑ کر چلنے میں عار محسوس نہیں کرتا، کوئی چشتی کسی قادری کے ساتھ عرفات و منی میں قیام کرنے سے نہیں جھجھکتا، کوئی شمالی ہند کسی جنوبی ہند والے کے ساتھ مناسک حج کی ادائیگی سے گریز نہیں کرتا، اور نہ ہی کوئی زائد مرتاض کو کسی عاصی و خاطی کی موجودگی کھٹکتی ہے، طوافِ کعبہ، بوسۂ حجر اسود، قیام عرفات و منی، رمی جمار اور سعی صفا و مروہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک مسلمان اپنی زندگی کا خود مالک نہیں ہوتا بلکہ مرضی مولیٰ کا تابع ہوتا ہے، وہاں کسی کی مجال نہیں کہ وہ مشرب، درس گاہ، رنگ و نسل اور زبان و مکان کی بنیادوں پر ایک جگہ جمع ہونے اور ارکانِ حج کی ادائیگی سے انکار کر دے، کیونکہ یہی فرمان الہٰی ہے اور یہ فرمان کسی خاص وقت اور جگہ تک کے لئے نہیں ہے بلکہ جب تک ایک مسلمان کی سانسیں چل رہی ہیں، اسے وحدت، اشتراک عمل اور اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے، اگر یہ اہل سنت کا اجتماعی وطیرہ بن جائے تو مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی انقلاب بس دو قدم کے فاصلے پر ہے، مناسک حج کی ادائیگی میں جس وارفتگی اور جنوں خیزی کا ہم مظاہرہ کرتے ہیں اگر یہی وارفتگی اور جنوں خیزی ایک دوسرے کے لئے ہماری مجموعی فکر و نظر میں آ جائے تو عقل حیلہ تراش کی رہبری اور نفس امارہ کی پیروی سے نجات حاصل ہو جائے،
لیکن جیسے ہی ہم اس مقدس فریضے سے سبکدوش ہوکر واپس آتے ہیں ہماری مشربی، علاقائی اور درسگاہی غیرت جاگ اٹھتی ہے، اب ہم ایک مسلمان اور سنی نہیں ہوتے بلکہ کسی مخصوص خانقاہ کے وارفتہ جان مرید ہوتے ہیں، کسی علاقے کے ایک فرد ہوتے ہیں اور کسی خاص درس گاہ کے وابستہ ہوتے ہیں، پہلی حیثیت ہمارے دل میں دوسری خانقاہوں کی عظمت و احترام کا درس نہیں دیتی، دوسری حیثیت فکر و نظر میں علاقیت اور درس گاہیت کے جراثیم کو ہوا دیتی ہے جس کے نتیجے میں با صلاحیت اور بالغ نظر افراد کنج نشین ہو جاتے ہیں اور ناہل جماعت کے علمی، فکری، مشربی اور تدریسی وقار کو زک پہنچاتے ہیں،
علمی فکری اختلاف کہاں نہیں ہوتے؟ اپنی درس گاہ، اپنا مشرب اور اپنی زمین کسے پیاری نہیں ہوتی؟، خودی اور انانیت کے جراثیم کس میں نہیں پائے جاتے؟ اگر یہ فریب پیہم نہ ہو تو انسان کا دم نکل جائے ایسے اختلافات، پیار، عقیدت اور انانیت کا دائرہ اپنی ذات تک رہے تو کوئی بات نہیں لیکن وہ ذات سے گزر کر اجتماعی کاز اور ملی مسائل کو نگل جاتے ہیں تو وہ قابلِ مذمت ہے افسوس کہ ہمارے یہاں اپنوں سے عقیدت کے ساتھ دوسروں سے لگاؤ نہیں ہوتا، وحدت نہ سہی اشتراک عمل تو ہو لیکن وہ بھی نہیں ہوتا،
یاد رہے ہم جماعت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں جماعت ہماری وجہ سے نہیں، ایسے میں اپنی انا کی تسکین اور اپنے اقتصادی استحکام کے لئے جماعت کی آبرو نیلام کرنے سے پہلے ہمیں ایک بار سوچ لینا چاہیے کہ جب بھی کوئی مؤرخ جماعتی تاریخ لکھنے کے لئے قلم اٹھائے گا ہماری حیثیت مذہبی جذبات بیچنے والے ایک تخریب کار شکم پرور کی تو ہوگی ایک مذہبی قائد، ملی رہنما اور روحانی پیشوا کی نہیں، اس لئے اگر ہم معاشرتی سطح پر اپنا اور جماعت کا علمی و فکری وقار بحال کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا آپسی اتفاق و اتحاد ناگزیر ہے،
اس تمہید کا حاصل یہ ہے کہ آج سے کچھ دنوں قبل کسی صاحب نے واٹسپ گروپ میں ایک پوسٹر سینڈ کیا جس میں مفتی محفل اشرف صاحب کو پیر طریقت، رہبر شریعت لکھ دیا گیا، پھر کیا تھا، کج فکری، کم فہمی اور غیر شائستہ بحث و تمحیص کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ مانو یہی اسلام کے بنیادی اور لڑنے مرنے کے مسائل ہوں، بیشک علماء حق کا یہ فطری حق اور لازمی فرض ہے کہ خلاف شریعت افکار و اعمال کا نوٹس لیں، اس کی شرعی حیثیت متعین کریں، قافلۂ انسانیت کو جادۂ مستقیم پر قائم و استوار رکھنے کی کوشش کریں مگر دین و اعتدال اور تہذیب و تمدن کے حدود سے نکل کر نہیں، اسلام کے فریم ورک میں رہتے ہوئے، الحمدللہ ہر دور میں علماء دین نے یہ منصبی فریضہ انجام دیا ہے، اور بیشک یہ بھی کہ اپنے اوپر سے علمی انداز میں تنقید کو رفع کرنا نہ صرف ہر شخص کا حق ہے بلکہ یہ بھی با مقصد اور مثبت تنقید ہی کا حصہ ہے، لیکن ان بزرگوں کی الزام در الزام کی تحریریں پڑھ کر ہمیں ان سے عقیدت اور حسنِ ظن کو برقرار رکھنے میں خاصی دشواری ہو رہی ہے، کیا اس ملت کے علماء و اصحاب فکر و نظر کے لئے یہی ترجیحات زیبا ہیں جو اپنی ملی و مسلکی وجود و بقا کے انتہائی خوفناک معرکے میں گھسیٹ لی گئی ہے، ہماری دانش، ہماری پیش وائی، ہماری قیادت کا یہ رجحان کیا کسی مثبت اور تعمیری سمت میں ہمیں پیش قدمی کی مہلت دے گا؟ ہرگز نہیں،
خدارا انانیت اور طبقاتی زعم و تعصب کی بوالعجبیوں سے اوپر اٹھ کر سوچا جائے کہ ہمیں اہل سنت وجماعت کو کیسے متحد و منظم کرنا ہے، مسلک اہل سنت کی توسیع و عظمت کے لئے جماعت کا ہر فرد راعی اور ذمہ دار ہے جس کے لئے اسے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، ورنہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جس جماعت کے سائے تلے ہم اپنا کاروانِ حیات آگے بڑھا رہے ہیں وہ بہت دنوں تک ہمارا فضول بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہوگی،
میرے خیال سے ایسے ہفوات کا جواب دینا قرطاس و قلم کا اپنے ہاتھوں خون کرنا ہے، کیونکہ قلم ایسے سوالات کا جواب دینے میں جذبات سے مغلوب ہوکر تہذیب کی فصیلیں توڑ دیتا ہے، مگر ایسے مسائل سے چشم پوشی بھی خدشات کی صداقت مندی کی ترجمانی کرتی ہے، اس لئے بے شمار ذہنی الجھنوں کی بھیڑ میں گم ہوکر بھی یہ چند سطور لکھ ڈالا لہذا مقطع میں کوئی ایسی سخن گسترانہ بات آ پڑی ہوں تو معذرت

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے