ایصال ثواب کے شرعی تقاضے

تحریر: نور محمد قادری
دارالافتاء: جامعہ خدیجہ، پورن پور، پیلی بھیت

جو اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے قائم کردہ نظام پر عمل کرتے ہیں وہی لوگ ہدایت پاتے ہیں دنیا و آخرت میں ان کے لیے بھلائی ہے دنیا عارضی ہے حیات و موت اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر کیوں نہ ہم خود اور اپنے بچوں کو اپنے دوست و احباب کو آخرت کی تیاری کرنے کی تلقین کریں
یاد رکھیں مرنے کے بعد ہمارے پاس ندامت کے سوا کچھ نہ ہو گا حدیث شریف میں ہے کہ اولاد والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہے بعد موت ہر انسان کو ایصال ثواب کی ضرورت پڑے گی قرآن و احادیث اور فقہی عبارات سے بین ثبوت ہے کہ مرنے کے بعد مردوں کو ثواب پہنچتا ہے دوست، و احباب، اولاد جو بھی کار خیر، صدقہ جاریہ کرتے ہیں اس کا ثواب مرحومین کو ضرور پہنچتا ہے
افسوس ہم نے ایصال ثواب میں بھی دکھاوا اور سیاست کرنا شروع کر دیا ہے احادیث مبارکہ میں ایصال ثواب کا جو طریقہ بتایا گیا ہے اس کے خلاف کام کیے جا رہے ہیں تیجہ، دسواں، بیسواں، چالیسواں میں خوب شادی بیاہ کی طرف دوست و احباب کو دعوت دی جاتی اور خوب بریانی، کھلا کر اپنی واہ وائ کا ثبوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے والد سے والدہ سے بیوی سے بھائی سے بہت محبت کرتے ہیں اللہ عقل سلیم دے
آپ یقین جانیں کہ ایصال ثواب کا اگر کوئی صحیح حق ادا کرتا ہے تو ہمارے علماء کرام اور ائمہ مساجد اور مدرسے کے طالب علم ہیں مرحوم کے مرنے کے بعد قبر پر مدرسہ کے طالب علم چالیس دن قرآن پڑھنے جاتے ہیں تیجہ، دسواں، چالیسواں تک مسجد کے امام فاتحہ خوانی کرنے آتے ہیں گھر والوں کا تو بس رول یہ ہوتا ہے کہ اچھے اچھے پکوان بنا کر لوگوں کے سامنے رکھنا ہے
(اہم نقطہ) جتنا پیسہ ہم اپنے مرحوم کے کھانے پینے میں خرچ کرتے ہیں اگر صرف اس کا آدھا پیسہ مسجد، مدرسہ، ، پر خرچ کر دیں تو ماشاء اللہ ہماری مسجد اور مدرسے عالی شان اور خوبصورت دکھائی دیں گے.

مغفرت کی دعا کرنا)

ارشاد باری تعالیٰ ہے
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ
شورہ الحشر رکوع 4
ترجَمۂ کنزالایمان. اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے.
اے ہمارے رب! ہمیں اورہمارے ان بھائیوں کوبخش
دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، رحمت والا ہے اور تو اپنی مہربانی اور رحم کے صدقے ہماری اس دعا کو قبول فرما۔( روح البیان ، الحشر ، تحت الآیۃ: ۱۰ ، ۹ / ۴۳۶-۴۳۷)
اپنے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرنا قرآن پاک سے ثابت ہے
دعائے مغفرت صرف مومنین کے لیے کی جائے

کیا مُردوں کو ثَواب پہنچتا ہے؟

حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا:ہم اپنے مُردوں کے لئے دُعا کرتے اور اُن کی طرف سے صَدَقہ اور حج کرتے ہیں،کیا اُنہیں اِس کا ثَواب پہنچتا ہے؟سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اِنَّهٗ لَيَصِلُ اِلَيۡهِمۡ وَيَفۡرَحُوۡنَ بِهٖ كَمَا يَفۡرَحُ اَحَدُكُمۡ بِالۡهَدِيَّةِ اُنہیں اِس کا ثَواب پہنچتا ہے اور وہ اِس سےایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی شخص تحفے سے خوش ہوتا ہے۔(عمدۃ القاری،ج6، ص305
فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم : جو کوئی تمام مومن مَردوں اور عورَتوں کیلئے دعائے مغفرت کرتا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کیلئے ہر مومن مرد و عورت کے عِوَض ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔ (مسندُ الشّامیین لِلطَّبَرانی ج۳ص۲۳۴حدیث ۲۱۵۵
ایک بُزرْگ نے اپنے مرحوم بھائی کو خواب میں دیکھ کر پوچھا : کیازِندہ لوگوں کی دُعا تم لوگوں کو پہنچتی ہے؟ مرحوم نے جواب دیا : ’’ ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ نورانی لباس کی صورت میں آتی ہے اسے ہم پہن لیتے ہیں ۔ ‘‘ (شَرحُ الصُّدُوْرص۳۰۵

ایک بُزرْگ نے اپنے مرحوم بھائی کو خواب میں دیکھ کر پوچھا : کیازِندہ لوگوں کی دُعا تم لوگوں کو پہنچتی ہے؟ مرحوم نے جواب دیا : ’’ ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! وہ نورانی لباس کی صورت میں آتی ہے اسے ہم پہن لیتے ہیں ۔ ‘‘ (شَرحُ الصُّدُوْرص۳۰۵

مَنقُول ہے :

جب کوئی شخص میِّت کو ایصالِ ثواب کرتا ہے تو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَاماسے نورانی طباق میں رکھ کر قبر کے کَنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’ اے قبر والے ! یہ ہدِیَّہ (یعنی تحفہ) تیرے گھر والوں نے بھیجا ہے قَبول کر۔ ‘‘ یہ سن کر وہ خوش ہوتا ہے اور اس کے پڑوسی اپنی مَحرومی پر غمگین ہوتے ہیں ۔ (اَیضاًص۳۰۸)
مگر افسوس ہم اپنے عزیز کو دفنانے کے بعد بے پرواہ ہو جاتے ہیں خدا را اپنے مرحومین پر رحم کرو

صدقہ جاریہ

حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عَرْض کی : یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم! میری ماں انتِقال کرگئی ہیں (میں اُن کی طرف سے صَدَقہ (یعنی خیرات) کرنا چاہتا ہوں ) کون سا صَدَقہ افضل رہے گا؟ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : ’’پانی۔ ‘‘ چُنانچِہ اُنہوں نے ایک کُنواں کھدوایا اور کہا : ھٰذہ لاُِمِّ سَعدیعنی ’’یہ اُمِّ سَعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمَا کیلئے ہے۔ ‘‘ ( اَبودَاوٗد ج۲ص۱۸۰حدیث۱۶۸۱

جب قبرستان سے گزریں

جب بھی قبرستان کے طرف سے گزریں یا کسی کے جنازے میں جائیں تو قرآن کی کچھ سورتیں، درود شریف پڑھ کر مردوں کو ضرور ایصال ثواب کیا کریں ہمارے ایصال ثواب کی مردوں کو بہت ضرورت ہے
حضرتِ عَلَّامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالِکی قُرطُبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضِر ہو کر ایک عورت نے عَرض کی : میری جوان بیٹی فوت ہوگئی ہے ، کوئی طریقہ ارشاد ہو کہ میں اسے خواب میں دیکھ لوں ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اُسے عمل بتا دیا ۔ اُس نے اپنی مرحومہ بیٹی کو خواب میں تو دیکھا، مگر اِس حال میں دیکھا کہ اُس کے بدن پر تارکَول (یعنی ڈامَر) کا لباس، گردن میں زنجیر اور پاؤں میں بَیڑیاں ہیں!یہ ہَیبتناک منظر دیکھ کر وہ عورت کانپ اُٹھی! اُس نے دوسرے دن یہ خواب حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کو سنایا ، سن کرآپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ بَہُت مغموم ہوئے ۔ کچھ عرصے بعد حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے خواب میں ایک لڑکی کو دیکھا، جو جنّت میں ایک تَخت پر اپنے سر پر تاجسجائے بیٹھی ہے ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو دیکھ کر وہ کہنے لگی : ’’ میں اُسی خاتون کی بیٹی ہوں ، جس نے آپ کو میری حالت بتائی تھی ۔ ‘‘آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فرمایا : اُس کے بَقَول تو تُو عذاب میں تھی، آخِر یہ انقِلاب کس طرح آیا؟ مرحومہ بولی : قبرِستان کے قریب سے ایک شخص گزرا اور اس نے مصطَفٰے جانِ رَحمت ، شمعِ بزمِ ہدایت، نَوشَۂ بزمِ جنَّت، مَنبع جُود و سخاوت ، سراپا فضل و رَحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجا، اُس کے دُرُود شریف پڑھنے کی بَرَکت سے اللہ عَزَّوَجَل نے ہم پانچ سو ساٹھقَبْر والوں سے عذاب اُٹھالیا

مردوں کی تعداد کے برابر ثواب

فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم : جو قبرستان میں گیارہ بار سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص پڑھ کر مُردوں کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو مُردوں کی تعداد کے برابر ایصالِ ثواب کرنے والے کواس کا اَجْر ملے گا۔ (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۷ ص۲۸۵حدیث۲۳۱۵۲

دعائے مغفرت کی برکت

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ بے شک اللّٰہ تعالیٰ ایک نیک بندے کا درَجہ جنت میں بلندفرمائے گاتووہ کہے گاکہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ کہاں سے یہ مرتبہ مجھ کوملا؟ تواللّٰہتعالیٰ فرمائے گاکہ تیرے بیٹے نے تیرے لیے مغفرت کی دعا مانگی ہے اس لیے تجھے یہ درَجہ ملا ہے۔(مشکاۃالمصابیح،کتاب الدعوات،باب الاستغفار و التوبۃ، ۱ / ۴۴۰، حدیث: ۲۳۴۵)

ابوبکر رشیدی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد طوسی معلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو خواب میں دیکھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابوسعید صفَّار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہہ دینا کہ ہمارا تمہارا تو معاہدہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کو نہیں بھولیں گے تو ہم تو نہیں بدلے مگر تم بدل گئے۔ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے ابو سعید صفَّاررَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس خواب کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کیا بتاؤں میں ہر جمعہ کو ان کی قبر کی زِیارت کے لیے جایا کرتا تھا اور کچھ ایصالِ ثواب کیا کرتا تھا لیکن اس جمعہ کو میں نہیں جاسکا اسی کی ان کو مجھ سے شکایت ہوگئی ہے۔ (احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الثامن، بیان منامات المشائخ ،۵ / ۲۶۷)

کیا روحیں گھر آتی ہیں

حضرتِ سیِّدُناعبداللہ بن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےرِوایت ہے:مؤمنین کی رُوحیں روزِعید، روزِعاشورا (10 مُحرَّمُ الْحَرَام)،رَجَب کے مہینے کے پہلے جُمُعَۃُالمُبارک اور شبِِ بَرأ ت کو اپنے گھر آکر باہر کھڑی رہتی ہیں اور کہتی ہیں:آج کی رات (ہمارےایصالِ ثواب کی نیَّت سے)صَدَقہ کرکے ہم پر مہر بانی کرو! اگرچہ ایک روٹی ہی سَہی،کیونکہ ہم اِس کے محتاج ہیں۔اگر گھر والے اِیصالِ ثواب نہ کریں تو وہ حسرت کے ساتھ لوٹ جاتی ہیں۔ (الجنۃ والنار و فقد الاولاد،ص33)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مُجَدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ( مُخَرَّجہ )جلد9صَفْحَہ650 پر نَقْل کرتے ہیں : ’’ غَرائب‘‘ اور ’’ خَزانہ‘‘ میں منقول ہے کہ مومِنین کی رُوحیں ہر شبِ جُمُعہ(یعنی جُمَعرات اور جمعہ کی درمِیانی رات) ، روزِ عید ، روزِ عاشورا ء اور شبِ بَراءَت کو اپنے گھر آ کر باہَر کھڑی رہتی ہیں اور ہر رُوح غمناک بُلند آواز سے نِداکرتی(یعنی پکار کر کہتی) ہے کہ اے میرے گھروالو ! اے میری اولاد! اے میرے قَرابت دارو!(ہمارے ایصالِ ثواب کی نیَّت سے )صَدَقہ (خیرات)کر کے ہم پر مِہربانی کرو ۔

ایصالِ ثواب یعنی قرآنِ مجید یا دُرُود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے۔ عبادتِ مالیہ یا بدنیہ فرض و نفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے، زندوں کے ایصالِ ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ (بہار شریعت،حصہ۱۶،۳ / ۶۴۲)

فوراً بخشش ہو گئ

شیخ مُحِیُّ الدین ابن عر َبی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مجھے حدیث پہنچی تھی کہ جو ستر ہزار بار کلمہ شریف پڑھ لے یا پڑھ کر کسی کو بخش دیا جائے تو اس کی مغفرت ہوتی ہے میں نے اتنا کلمہ پڑھ لیا تھا،ایک دن میرے ہاں دعوت میں ایک صاحب کشف جوان حاضر تھا اچانک رونے لگا،سبب پوچھا بولا کہ میں اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں ،میں نے اپنے دل میں پڑھا ہوا وہ کلمہ اس کی ماں کو بخش دیا وہ جوان اچانک ہنس پڑا اور بولا کہ اب میں اسے جنت میں دیکھتا ہوں ،میں نے اس حدیث کی صِحَّت اس وَلی کے کشف سے معلوم کی اور اس کے کشف کی صِحَّت حدیث سے۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ،باب ما علی الماموم۔۔۔الخ،الفصل الثانی،۳ / ۲۲۲،تحت حدیث۱۱۴۲)

’’ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت (مُخَرَّجہ)‘‘ صَفْحَہ139سے ایمان افروز معلوماتی ’’ عرض و ارشاد‘‘ مُلاحَظہ فرمایئے : عرض : حُضُور! ایک شخص نے اپنی لڑکی کے انتِقال کے بعد دیکھا کہ وہ علیل (یعنی بیمار ) اور بَرَہْنَہ ہے ۔ یہ خواب چند بار دیکھ چکا ہے ۔ ارشاد : کلمہ ٔ طیِّبہ( یعنی ہر بارلَآاِلٰہَ اِلَّا اللہ) ستَّر ہزار (70000 ) مرتبہ مَع دُرُود شریف پڑھ کر بخش دیا جائے اِنْ شَآءَ اللہ پڑھنے والے اور جس کو بخشا(یعنی ایصالِ ثواب کیا) ہے ، دونوں کے لئے ذریعۂ نَجات ہوگا اور پڑھنے والے کو دُو نا ثواب ہوگا اور اگر دو کو بخشے گا تو تِگْنا (یعنی تین گُنا)اِسی طر ح کر وڑوں بلکہ جمیع (یعنی تمام) مؤمنین ومؤمِنات کو ایصالِ ثواب کرسکتا ہے ، اسی نسبت سے اس پڑھنے والے کو ثواب ہو گا ۔
تیجہ میں تسبیح یا جنے کی مقدار

لہٰذاستر ہزار بار کلمہ طیبہ کا ختم کرکے اپنے مرحوم عزیز کو ایصالِ ثواب کیجئے!

ستر ہزار کلمہ طیبہ مقدار کی 15 کلو جنے ہوتے ہیں

تیجے کے کھانے کا حکم

تیجے وغیرہ کا کھانا صرف اِسی صورت میں میت کے چھوڑے ہوئے مال سے کرسکتے ہیں جبکہ سارے وُرَثا بالغ ہوں اور سب کے سب اجازت بھی دیں اگر ایک بھی وارِث نابالغ ہے توسخت حرام ہے۔ ہاں بالغ اپنے حصے سے کرسکتا ہے۔ ( فتاوی خانیۃ، کتاب الحظر و الاباحۃ، ۴ / ۳۶۶ وفتاوی رضویہ، ۹ / ۶۶۴ وبہار شریعت، حصہ۴، ۱ / ۸۵۳ ملخصاً)

تیجے کا کھاناچونکہ عموماً دعوت کی صورت میں ہوتا ہے اِس لئے اَغنیا کے لئے جائز نہیں صرْف غربا و مساکین کھائیں ، تین دن کے بعد بھی میت کے کھانے سے اَغنیا (یعنی جو فقیر نہ ہوں اُن) کوبچنا چاہئے۔ فتاویٰ رضویہ جلد9 صفحہ667 سے میّت کے کھانے سے متعلق ایک مفید سوال جواب ملاحظہ ہوں ، سوال: مقولہ طَعَامُ الْمَیِّتِ یُمِیْتُ الْقَلْب(میّت کا کھانا دل کو مردہ کر دیتا ہے) مستند قول ہے، اگر مستند ہے تو اس کے کیا معنی ہیں ؟

صدر الشریعہ علیہ رحمہ فرماتے

٭ میّت کے تیجے کا کھانا (مالدار نہ کھائیں ) صرف فقرا کوکھلائیں ۔(بہار شریعت، حصہ۴، ۱ / ۸۵۳ ملخصاً

شادی بیاہ یا جس طرح خوشی کے موقع پر ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں اسی طرح تیجے، بیسویں، چالیسویں میں دعوت دینا جائز نہیں. اور قبول کرنا بھی جائزہ نہیں

نوٹ ہاں فاتحہ میں بہت ساری کھانے کی چیزیں ہوتی اس کو کھاسکتے ہیں…
مولی تعالیٰ ہمیں شرعی طور پر ایصال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آج بھی ہو جو ابراھیم سا ایماں پیدا

تحریر : سراج احمد آرزو حبیبی قربانی عربی زبان کے لفظ(قرب) سے مشتق ہےجسکا معنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے