جناب یاور وارثی: شخصیت اور فن

تحریر: محمد طفیل احمد مصباحی


شاعری در اصل ساحری کا ایک روشن استعارہ ہے ، جس میں شاعر کو دماغ سوزی اور مرصّع سازی کے دشوار گزار مرحلے سے گذرنا پڑتا ہے ۔ شاعری ، ابلاغ و ترسیل کا وہ خوب صورت پیرایۂ بیان اور مافی الضمیر کی ادائیگی کی وہ مخصوص صورت ہے جو ہماری روز مرّہ گفتگو اور عام بول چال سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے اور اس میں الفاظ کا ایک مدھ بھرا آہنگ پایا جاتا ہے ۔ بول چال سے زیادہ بلیغ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ گفتگو میں ہم جو معانی ادا کرتے ہیں ، وہ کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ بیان ہو جائیں اور آہنگ سے مقصود یہ ہے کہ شعر میں ایک مترنم اتار چڑھاؤ کی کیفیت پائی جائے جو کلام کی عام صورتوں میں مفقود ہوتی ہے ۔ گویا شاعری ، الفاظ کا وہ فنکارانہ استعمال ہے جس میں ایک طرف خیالات کی بلند پروازی اور معانی کی وسعت ذہن و فکر کو مسخر کرے تو دوسری جانب الفاظ کی نغمگی سامعین کو مدہوش کردے ۔ لہذا اس حقیقت کو تسلیم کر لینے میں ہمیں ذرا بھی تامل نہیں کرنا چاہیے کہ دنیا میں کلام کی کوئی بھی صورت شاعری سے زیادہ پُر کیف ، بہار آفریں اور پُر تاثیر نہیں ہو سکتی ۔ شاعری عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ ” شعر ” ہے۔ شعر کے معانی پہچان اور شناسائی کے ہیں ۔ شعور کا لفظ اسی سے نکلا ہے ، جس سے یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ شاعری محض فکر و خیال کی بلندی یا الفاظ کی نشست و برخاست کا نام نہیں ہے بلکہ ایک ایسے شعور ، گہری بصیرت اور ابلاغِ فکر و نظر کا نام ہے جو عام لوگوں کے اذہان سے بالعموم اوجھل رہتے ہیں ۔
اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہلِ عرب کہتے ہیں :
انما سمی الشاعر شاعرا ، لانہ یشعر بما لا یشعر غیرہ .
یعنی شاعر کو شاعر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی فطری لیاقت اور دقتِ نظری سے ایسی اشیاء کا شعور و ادراک کر لیتا ہے جو دوسرے لوگ نہیں کرپاتے ۔
نعتیہ ادب اور تقدیسی شاعری کے تاریخی صفحات پر ایک سے سے جلیل القدر نعت گو شعراء کے نام ستاروں کی مانند جھلملاتے اور جگماتے نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ خوش بخت حضرات ہیں جنھوں نے اس فن کو ضمناً و رسمًا نہیں بلکہ مستقل طور پر اپنایا اور اسے زمین سے اٹھا کر آسمان بلندیوں تک پہنچایا اور شاعری کو تقدّس کا پیرہن عطا کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صنفِ نعت کمیت و کیفیت اور موضوعات کے تنوّع کے لحاظ سے ارتقائی مراحل طے کر کے غزل کی ہم پلّہ ثابت ہوئی ۔ اردو نعتیہ شاعری کی تاریخ بڑی طویل ہے ۔ شاعری کی جملہ اصناف میں اسے زمانی تقدّم کے ساتھ تقدّس کا درجہ حاصل ہے ۔ مصنفِ شعر الہند کی صراحت کے مطابق ” اردو شاعری کی ابتدا مذہبی شاعری ( حمد ، نعت ، منقبت ) سے ہوئی اور ایک زمانے تک مذہبی خیالات اردو شاعری کے جزوِ لاینفک رہے "۔ راقم کا مقصد یہاں اردو شاعری کی تاریخ بیان کرنا نہیں ۔ بیسویں صدی عیسوی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے ابتدائی دو عشرے میں جن قادر الکلام نعت گو شعراء نے اپنی کامیاب شاعری کے توسط سے زبان و ادب سے لے کر ایمانیات و اخلاقیات ، تصوف و معرفت اور افکار و خیالات کی وادیوں کو مہکایا ہے اور انسانی قلوب کو سوز و گداز عطا کیا ہے ، ان میں ایک مبارک نام جناب یاور وارثی صاحب کا بھی ہے ، جن کا شمار اس وقت اردو کے نام ور اساتذۂ سخن میں ہوتا ہے اور نعت گو شعراء میں صفِ اوّل کے شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں ۔ اردو زبان و ادب کے اصول و مبادی اور نعتیہ شاعری کے بنیادی تقاضوں سے کماحقہ واقفیت رکھتے ہیں ۔

یاور وارثی ( ولادت : ١٦ / جولائی ١٩٥٧ء ) کا اصل نام غلام اسماعیل ہے ، مگر دنیائے شعر و ادب میں وہ اپنے تخلص اور نسبتی نام ” یاور وارثی ” سے مشہور ہیں ۔ وطن مالوف نارہ ، الہٰ آباد ( کوشامبی ) یوپی ہے ۔ موصوف ایک علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور ” داغ اسکول ” کے معلم و متعلم ہیں ۔ علمی و ادبی ماحول میں پرورش پائی ہے ۔ ان کے والد حضرت افسر ناوری ( تلمیذ حضرت نوح ناروی جانشیں داغ دہلوی ) اپنے وقت کے جلیل القدر فاضل اور ممتاز شاعر تھے ۔ والد کی آغوش تربیت کا یہ اثر ہوا کہ شروع ہی سے مشقِ سخن کرنے لگے ۔ حضرت وقار برکاتی ، بعد ازاں علامہ الحاج حق بنارسی سے کلام کی اصلاح لی اور ہم عصر شعراء میں بہت جلد اپنی شناخت بنا لی ۔ آج ان کا شمار اردو کے نام ور اساتذۂ سخن میں ہوتا ہے ۔ گذشتہ تین دہائیوں سے بڑی خاموشی اور خلوص مندی کے ساتھ زبان و ادب اور خاص طور سے نعتیہ ادب کے فروغ و استحکام کا کام بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں ۔ حسنِ صورت کے ساتھ حسنِ سیرت کے جلووں سے آراستہ ہیں ۔ جتنے بڑے اور اچھے شاعر ہیں ، اتنے ہی بڑے اور اچھے انسان بھی ہیں ۔ اپنے فضل و کمال پر درویشی کی چادر اوڑھ رکھی ہے ۔ صوفیانہ مزاج رکھتے ہیں ۔ تہذیب و شرافت اور حلم و حیا کے پیکر ہیں ۔ نہایت کریم النفس ، شفیق و مہربان ، متواضع ، اخلاق کے دھنی اور ملنسار انسان ہیں ۔ مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک ہیں ۔ وارثی اور عزیزی و نوّابی سلسلے سے وابستہ ہیں ، یہی وجہ ہے کہ طبیعت میں سوز و گداز اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے ۔ اولیائے کرام اور بزرگان دین سے سچی محبت رکھتے ہیں ۔ بانیِ سلسلہ کی حیثیت سے تاجدارِ دیویٰ ، مرشدِ کامل حضرت حاجی وارث پاک اور سلطان العارفین ، بدر الکاملین ، عاشق سید المرسلین ، سرخیلِ صوفیاء حضرت سرکار سیدی شاہ نوّاب علی حسنی جہاں گیری ابوالعلائی علیھما الرحمہ سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں ۔ جامعِ شریعت و طریقت ، بدر الکملاء ، سراج الاتقیاء حضرت الشاہ صوفی سید محمد عزیز الحسن نوابی لیاقتی ابو العلائی دامت برکاتہم العالیہ سے بیعت و ارادت کا شرف رکھتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ ” نسبت سے شے ممتاز ہوتی ہے ” ۔ وارثی کے ساتھ عزیزی و نوّابی رنگ چڑھنے کے بعد ان کی دنیا ہی بدل گئی ہے ، جس کا اعتراف وہ خود بڑے فخریہ انداز میں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :
” میرے پاس فضل و کمال اور شعر و سخن کا جو کچھ بھی سرمایہ ہے ، وہ حضرت سرکار سیدی نواب علی شاہ علیہ الرحمہ کی نگاہ عنایت اور مرشد گرامی حضرت سید شاہ محمد عزیز الحسن دام ظلہ کی فیض بخشیوں کا نتیجہ و ثمرہ ہے ” ۔
یاور وارثی صاحب اپنے پیر خانے کا بڑا احترام کرتے ہیں ۔ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے خانقاہ نوابیہ ، سرکار نواب علی شاہ اور ان کے شہزادگانِ عالی تبار کا تذکرۂ جمیل بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ کیا کرتے ہیں ۔
گلشنِ شہِ نواب کے گلِ سرسبد ، آبروئے علم و ادب ، نازشِ شعر و سخن ، لسان العصر ، سید الشعراء حضرت سید شاہ محمد نور الحسن نور عزیزی نوابی دام ظلہ العالی سے ان کے بڑے گہرے مراسم ہیں ۔

موصوف فطری اور وہبی شاعر ہیں ۔ یہ فن انھیں وراثت میں ملا ہے ، جسے آج تک وہ اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور خوب پروان چڑھا رہے ہیں ۔اصنافِ سخن کے معاملے میں ” ہر فن مولیٰ ” واقع ہوئے ہیں ۔ ہر صنفِ سخن میں بڑی مہارت کے ساتھ طبع آزمائی کرتے ہیں ۔ حمد ، نعت ، غزل ، منقبت ، سلام ، رباعی ، قطعات اور دیگر اصناف پر یکساں قدرت رکھتے ہیں ۔

نظم و نثر دونوں میدان کے فاتح ہیں ۔ شاعری کے ساتھ بڑی کامیاب علمی نثر لکھتے ہیں ۔ مزاج میں تحقیقی و تنقیدی رنگ غالب ہے ۔ نعت نگاری و غزل گوئی ، کتب بینی ، تنقیدی مضامین اور نعت و غزل کا عمیق مطالعہ ان کے شب و روز کے محبوب مشغلے ہیں ۔
ان کے زہرہ نگار قلم اور فلک پیما فکر سے اب تک مندرجہ ذیل کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں اور عوام و خواص سے خراج تحسین وصول کرچکی ہیں :

( ١ ) برگِ ثنا ( پہلا نعتیہ مجموعہ ١٩٩٨ ء )
( ٢ ) وجدان ( دوسرا نعتیہ مجموعہ ٢٠١١ء )
( ٣ ) پسِ غبار ( مجموعۂ غزلیات ٢٠١٥ ء )
( ٤ ) محراب ( نعت و منقبت کا مجموعہ ٢٠١٦ ء )
( ٥ ) پھولوں کی خوشبو ( مجموعۂ نعت و منقبت بزبان ہندی ۲۰۱۷ ء)
( ٦ ) سحابِ نور ( نعتیہ مجموعہ ٢٠١٧ ء )
( ٧ ) عکس ( تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ
( ۸ ) وسلموا تسلیما ( جناب سید محمد نور الحسن نور نوابی کے مجموعۂ سلام کی ترتیب و تدوین ٢٠١٨ ء )
( ۹ ) قلزمِ نور ( جناب سید محمد نور الحسن نور نوابی کے مجموعۂ نعت و منقبت کی ترتیب و تدوین ٢٠١٨ء )

یاور وارثی صاحب ادب کے ایک بے لوث خادم ہیں ۔ نعتیہ ادب ان کا خاص میدان ہے ۔ نعت اکیڈمی ، کان پور کے عرصۂ دراز سے نائب صدر ہیں اور اس پلیٹ فارم سے نعتیہ ادب کی ترویج و اشاعت میں شب و روز کوشاں ہیں ۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ایک جگہ خود لکھتے ہیں :
جب تمام کائنات اور کائنات کی ہر شے نعت پڑھتی ہے تو میں کیوں پیچھے رہوں ۔ میں نعت نگاری کو زندگی کا مقصد سمجھتا ہوں ۔

          ( حریمِ نعت ، ص : ۳۲ )

اور سچائی بھی یہی ہے کہ ستائش کی تمنا اور صلہ کی پرواہ کئے بغیر تقریبا تیس سال سے زبان و ادب کی بیش بہا خدمت انجام دے رہے ہیں اور اس کے صلے میں گراں قدر اعزاز و ایوارڈ سے سرفراز ہو چکے ہیں ، جس کی تفصیل یہ ہے :

( ١ ) ” احسن العلماء رننگ ٹرافی "
( ٢ ) ” سید العلماء ٹرافی "
نعت و منقبت نگاری پر یہ دونوں اعزازی تحفہ ١٩٩٩ء میں آپ کو خانقاہ برکاتیہ ، مارہرہ شریف سے تفویض ہوا ۔
( ٣ ) ٢٠٠٢ ء میں ادبی منچ ، کان پور کی جانب سے ” اعزازِ امروز ” کا ایوارڈ ملا ۔
( ٤ ) نعتیہ ادب کی خدمت کے اعتراف میں الھند ویلفیئر سوسائٹی نے ٢٠٠٩ ء میں آپ کو ” خواجہ غریب نواز ٹرافی ” سے نوازا ۔
( ٥ ) شری مکند مراری اسمرتی ساہتیہ سنستھان کی جانب سے ٢٠١٣ ء میں ” شری مکند مراری اسمرتی ساہتیہ سمّان ” کا اعزاز ملا ۔
( ٦ ) مشہور واٹس ایپ گروپ ” بزمِ حسّان ” کی طرف سے کولکاتہ ، بنگال میں ” اعلیٰ حضرت ایوارڈ ” سے نوازے گئے ۔
( ٧ ) نعت کے حوالے سے بہترین خدمات انجام دینے کے صلہ میں قادری ایسو ایشن ، کان پور کے ذمہ داروں نے نومبر ٢٠١٧ ء میں آپ کو ایوارڈ اور سپاس نامہ پیش کیا ۔

یاور وارثی ایک عظیم شاعر اور قادر الکلام نعت گو ہیں ۔ ان کی بلند قامت فکر و شخصیت پر مجھ جیسا کم ظرف اور کوتاہ بیں شخص اظہارِ خیال کی جرات نہیں کر سکتا ۔ تاہم ادب کے ایک معمولی طالب علم کی حیثیت سے کچھ باتیں نذرِ قارئین ہیں ۔

شعر کا اصل حسن خیال کی پختگی اور تخیل کی بلند پروازی ہے ۔ الفاظ اور معانی کے درمیان وہی رشتہ ہے جو جسم اور روح کے درمیان ہے ۔ الفاظ بمنزلۂ جسم اور معانی بمنزلۂ روح ہیں ۔ خوب صورت جسم پر خوب صورت پوشاک بھلی اور دلنشیں معلوم ہوتی ہے ۔ شعر اسی وقت عمدہ ، معیاری اور شعریت و نشتریت سے لبریز ہوتا ہے جب کہ اس کے الفاظ موزوں ، وقیع اور متناسب ہوں ۔ خیالات پاکیزہ ہوں ۔ تخیل اعلیٰ درجے کا ہو ۔ افکار تازہ اور ذہن و فکر کو اپیل کرنے والے ہوں ۔ لہٰذا شاعری کے لئے عمدہ الفاظ کے ساتھ معانی کا اعلیٰ و ارفع ہونا ضروری ہے اور یہ دونوں چیزیں ( الفاظ و معانی ) پائیدار شاعری اور لافانی کلام کی بنیاد رکھتی ہیں ۔
شاعری کا اصل جوہر شاعر کا تخیل ہوتا ہے ۔ خیالات کی وسعت ، افکار کی بلندی اور کسی واقعے یا چیز کے متعلق اس کی فکر کا پھیلاؤ ، ایک خداداد صلاحیت ہے جو ہر ایک کے حصے میں نہیں آتی ۔ اور اسی کے ذریعے شاعر ایسے واقعات بھی جو اس نے دیکھے نہیں ہوتے بلکہ صرف پڑھے یا سنے ہوتے ہیں ان کو اس طرح بیان کر جاتا ہے جیسے اس کے سامنے وقوع پذیر ہوئے ہوں ۔
عام آدمی کے لیے صبح کا وقت صرف طلوع ِآفتاب کا منظر پیش کرتا ہے لیکن ایک حساس دل رکھنے والے فطرت شناس شاعر کے لیے یہ وقت بہت سے مخفی حقائق کی نقاب کشائی کرتا نظر آتا ہے ۔
کسی زندہ دل شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے :

ہم ایسے اہلِ نظر کو قبولِ حق کے لیے
اگر رسول نہ آتے تو صبح کافی تھی

جناب یاور وارثی جیسے مسلم الثبوت قادر الکلام شاعر کی دور بیں نگاہوں سے بھلا یہ حقیقت کیسے مخفی رہ سکتی تھی کہ وہ اپنی شاعری میں ” تخیّل ” جیسے ممتاز شعری جوہر کو فراموش کردیں ۔ چنانچہ انھوں نے اپنی نعتیہ شاعری کی عمارت ہی اس بنیاد ( تخیّل ) پر کھڑی کی ہے اور اپنے زورِ تخیّل سے نئے نئے شعری پیکر تراشے ہیں ، جس میں روایت کا حسن بھی ہے اور درایت کی چاشنی بھی ۔ اس تعلق سے مندرجہ ذیل اشعار خاص طور سے مطالعہ کئے جانے کے لائق ہیں :

رکھتا ہے جنوں نعت نگاری کی تمنا
ہو جائے بپا محشرِ ادراک کسی روز

آقا کا کرم ہوگا تو پھولوں پہ ہنسیں گے !!
یاور مرے گھر کے خس و خاشاک کسی روز

شاخِ والفجر پہ چمکا جو ستارا تیرا
آ گئی بادِ صبا پڑھنے قصیدہ تیرا

نعت نگاری کے جنون میں ” محشرِ ادراک برپا ہونے کی تمنا ” اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چشمِ عنایت کے صدقے گھر کے ” خس و خاشاک ” کا ” پھولوں پر ہنسنا اور طنز کرنا ” ایک ایسا عمدہ اور لطیف خیال ہے ، جو کسی بلند فکر شاعر ہی کے دماغ میں آ سکتا ہے ۔

خاک بن کر ہو بدن در پہ شہِ دیں کے نثار
دل ہمارا شررِ عشق سے معمور جو ہو

خوشبوئیں چومنے آئیں در و دیوارِ خیال
تذکرہ سرورِ کونین کا دستور جو ہو !!

سفرِ طیبہ کی خواہش کے گُہر بخش دئے
شمعِ جذبات مرے دل میں فروزاں کرکے

رات بھر یاد کیا کرتی ہیں ان کو سانسیں !!
بزمِ احساس میں اشکوں سے چراغاں کرکے

گئی ہے رخشِ تصور پہ جانبِ طیبہ
نگاہِ دید طلب اضطراب پہنے ہوئے

ہوائے شہرِ نبی نے دیا خرد کا لباس !!
جنوں تھا دشت نوردی کا خواب پہنے ہوئے

یاور وارثی اُردو کے ایک ایسے نعت گو شاعر ہیں جنہوں نے اپنی علمیت ، کمالِ ہنر مندی اور اعلیٰ زورِ تخیل سے زمینِ سخن کو آسمان بنایا ہے ۔ موصوف وارثی بھی ہیں اور عزیزی نوّابی بھی ، ان دونوں سلاسلِ طریقت کے باہمی امتزاج اور روحانی میلان سے جو ڈھانچہ تیار ہوا ہے ، وہ سراپا علم و ادب اور فضل و کمال کا ایک خوب صورت مرقّع ہے ۔ عصر حاضر کے ممتاز نعت گو شعراء میں انھیں صفِ اوّل میں جگہ دی جا سکتی ہے ۔ عام روش سے ہٹ کر اور روایتی شاعری سے اپنے دامن کو بچا کر انھوں نے جداگانہ راہ اختیار کی ہے اور اپنی نعتیہ شاعری میں بہت سارے نئے موضوعات و اسالیب کو شامل کر کے اردو کے نعتیہ ادب کے دامن کو وسیع کیا ہے ۔ علاوہ ازیں انہوں نے شاعری کو مذہب سے وابستہ کر کے اس کو ارفع و اعلیٰ بنانے کا فریضہ بھی بحسن و خوبی انجام دیا ہے ، جس سے نعتیہ شاعری روایت کی گلیاروں سے نکل کر درایت کے آسمان پر کمندیں ڈال کر ستاروں کی انجمن میں جھلملانے کے قابل ہوگئی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ انھوں نے شاعری کو برائے شاعری نہیں بلکہ اس کو اپنے مسلکِ عشق و عرفان کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے اور اپنے کلامِ بلاغت نظام سے شاعری کے دامن میں وہ موتی بکھیرے ہیں جِس کی چمک دمک سے نعتیہ شاعری کے ایوان میں اجالے صاف طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں ۔

جناب سید شاکر القادری ( پاکستان ) کے بقول :

یاور وارثی کی نعتیں فنی محاسن اور صوری خوبیوں کا بھی شہکار ہیں ۔ وہ نعتوں میں غزل کی سادہ و سلیس زبان استعمال کرتے ہیں ۔ نئے قوافی لاتے ہیں اور نئی نئی ردیفیں تراشتے ہیں ، لیکن نہ تو ان کے قوافی معنویت سے عاری ہوتے ہیں اور نہ ردیفیں محض سامانِ آرائش ، وہ ردیف کو نباہنے کا ہنر جانتے ہیں ۔

( حریمِ نعت ، ص : ٢٢ ، ناشر : دبستانِ نوابیہ عزیزیہ ، قاضی پور شریف )

معروف ادیب و نقاد عشرت ظفر لکھتے ہیں :

یاور وارثی کی تازہ فکر نے نعت نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہمہ جہت اسالیب دریافت کئے ہیں ۔ اسے اپنے عہد سے ہم آہنگ کیا ہے ۔ ایک نئی تازگی دی ہے اور اپنے معاصر نعت گویوں میں اہم مقام حاصل کیا ہے ۔

            ( ایضاً ، ص : ٢٤ )

تنقیدی نقطۂ نظر سے کسی بھی فن پارے اور ادبی ذخیرے کی قدر و قمیت متعین کرنے کے کچھ بنیادی اصول ہوتے ہیں جن کے مکمل یا نامکمل ہونے پر فن پارے یا تحریر کو اعلیٰ و ادنیٰ قرار دیا جاتا ہے ۔ محققینِ ادب اور نقادانِ فن نے اس سلسلے میں دو چیزوں کو اہم قرار دیا ہے ۔
اول : خیال کے اچھوتے پن کے ساتھ ” مقصدیت ” ۔۔۔
دوم : اسلوبِ تحریر اور اندازِ بیان ( یعنی ادب میں اپنے فن پارے کو پیش کرنے کا انداز )
اس جہت سے جب ہم یاور وارثی صاحب کی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کا کلام صرف اعلیٰ اور معیاری ہی نہیں بلکہ شاہکار کا درجہ رکھتا ہے ۔

مقصدیت کے ساتھ خیالات کی عمدگی ، زورِ بیان اور اسلوب کے اچھوتے پن کے حوالے یہ منتخب اشعار ملاحظہ کریں :

حاصل ہوا ہے نعت سا روشن دِیا مجھے
بھٹکا سکے گا اب نہ کوئی راستہ مجھے

میں پانی پر جو انگلی سے نبی کا نام لکھتا ہوں
مچل کر مجھ کو دریا کے کنارے داد دیتے ہیں

مرے رسول کے گیسو اگر نہیں چھوتی
صبا کے پاس یہ انداز ہی کہاں ہوتا

افلاک مرے اوج پہ حیران ہیں اور میں
نقشِ قدمِ سرورِ دیں چوم رہا ہوں


میرے دل نے جب تقابل حسن کا ان کے کیا
اک طرف وہ ، اک طرف ساری خدائی ہوگئی

ہو گیا ان کا عمامہ تاجِ شاہی کا بدل
تختِ شاہی کا بدل ان کی چٹائی ہوگئی


چاند تارے مصطفیٰ کے اک تبسّم کی کرن
جتنے جگنو ہیں انھیں کے نور کا اظہار ہیں

ہیں جمالِ گنبدِ خضریٰ کی لَو سے تابناک
کائناتِ دل میں جتنے بھی در و دیوار ہیں


اے سنگ دلی کو کوچۂ سرکار میں رہ جا
بدلے گی تری فطرتِ سفاک کسی روز

آ گئے آئینۂ ہستی سے !!
جہل کا زنگ چھڑانے والے

         ( ماخوذ از : حریمِ نعت )

ان اشعار میں خیالات کا ترفّع بھی ہے اور افکار کا تنوّع بھی ۔ مافی الضمیر کے اظہار کی ندرت بھی ہے اور اسالیب کا بانکپن بھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شاعر نے تخیل کی بلند پروازی کے ساتھ مقصدیت کے ساتھ سرِ مو انحراف نہیں کیا ہے ، بلکہ اسے بہر گام ملحوظِ خاطر رکھا ہے اور یہی ان کی معیاری بلکہ شاہکار نعتیہ شاعری کا نقطۂ انتہا ہے ، جہاں تک رسائی کے لئے اچھے اچھوں کے قد بونے نظر آنے لگتے ہیں ۔

جناب یاور وارثی کو اردو زبان و ادب پر کامل عبور حاصل ہے ۔ موقع و محل کی مناسبت سے موزوں الفاظ کے فنکارانہ استعمال پر قدرت رکھتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ” صوت ( آواز ) محض آواز نہیں ہوتی بلکہ ایک جذبہ ، ایک باطنی کیفیت اور ایک احساس ہوتی ہے ، جو دلوں کے تاروں کے چھیڑتی ہوئی انفس و آفاق میں روحانی نغمے بکھیرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ادب میں ” صوتی حسن ” ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ شاعری میں لفظی صوتیت یعنی صوتی حسن ، شعری تجربے کے آہنگ سے پھوٹتا ہے اور آبشاروں کی مانند کانوں میں رس گھولتا ہے ۔
یاور صاحب کی کامیاب ترین شاعری کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے کلام میں تخیل کی بلندی ، تراکیب کی نادرہ کاری اور الفاظ کی جامعیت و دلکشی کے ساتھ ” صوتی حسن ” بھی بلا کا پایا جاتا ہے ، جو اپنے باذوق سامعین و قارئین کو مسحور کئے بغیر نہیں رہتا ۔ مندرجہ بالا اشعار میں جہاں بہت ساری ادبی خصوصیات ہیں ، وہیں ” صوتی حسن ” کا آفتاب بھی پوری توانائی کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر جگمگاتا نظر آتا ہے ۔

غالب کی فکر و شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر عبادت بریلوی نے لکھا ہے کہ :
” غالب کی بڑائی اس میں ہے کہ انہوں نے متنوع موضوعات کو غزل کے سانچے میں ڈھالا ہے ” ۔
راقم الحروف کے خیال میں یاور وارثی کی شخصیت اور فن کی بڑائی اس میں ہے کہ انہوں نے نت نئے اسالیب و تراکیب کے ساتھ متنوع موضوعات کو نعت جیسی مشکل صنف کے سانچے میں ڈھالا ہے اور نو آموز شعراء کے لئے ایک راہِ عمل متعین کیا ہے ۔
یاور صاحب کی شاعری کا امتیازی وصف ان کی گہری فکر و بصیرت ، فنی رچاؤ اور استادانہ رنگ و آہنگ ہے ۔ ان کی نگاہ ہمیشہ اپنے پیغام کے ابلاغ و ترسیل پر مرکوز رہتی ہے ، بایں ہمہ وہ ہر مقام پر شعریت کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے کلام کو سپاٹ فکر کا بے ہنگم نمونہ نہیں بننے دیتے ہیں ۔
اردو محاورات اور تشبیہات و استعارات کا استعمال بھی بڑی مہارت کے ساتھ کرتے ہیں ۔
” کلام یاور کا استعاراتی نظام ” ایک مستقل عنوان ہے ، جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔ ان کی شاعری میں موجود استعارات جہاں معنیٰ آفرینی ، پیکر تراشی اور آرائشِ کلام کا حق ادا کرتے ہیں ، وہیں لسانی توسیع کا بھی فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ استعارے کو ابہام اور پیچیدگی سے بچا کر استعمال کرنا غیر معمولی قادر الکلامی کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ان کے کلام میں بخوبی موجود ہے ۔ وہ استعارے کے ساتھ اپنے کلام کو پیچیدہ نہیں بناتے بلکہ ان کو اپنے داخلی واردات کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پُرتاثیر بنا دیتے ہیں ۔

یاور وارثی صاحب ایک سچے عاشقِ رسول بلکہ فنا فی الرسول ہیں ۔ اسی جذبۂ عشق و سرمستی نے انہیں صحرائے نعت کی خاک چھاننے پر مجبور کیا ہے ۔ وہ نعت گوئی کو جانِ سخن اور سرمایۂ فن گردانتے ہیں ۔ وہی کلام لکھتے اور پڑھتے ہیں جو عشقِ رسول کا روشن استعارہ ہو ۔ اسی لئے تو کہتے ہیں :

افکار کو قدموں میں شہِ دیں کے جو رکھ دے
ہر اہلِ قلم کے لئے سرمایۂ فن ہے !!

عشقِ رسولِ پاک کا جو استعارہ ہو
پڑھتا وہی کلام ہوں میں اور میرا گھر

ان کے نعتیہ کلام میں بلا کی کشش اور عشق و عقیدت کی چاشنی پائی جاتی ہے ۔ وہ جذبات کی رو میں بہکتے نہیں ہیں اور نہ تخیّل کی اڑان بھرتے وقت اپنے قدم کو جادۂ شریعت سے باہر جانے دیتے ہیں ، بلکہ حد درجہ حزم و احتیاط سے کام لیتے ہیں ۔ فرقِ مراتب کا بھرپور خیال رکھتے ہیں ۔ توحید و رسالت اور ولایت کے درمیان لطیف اور نازک فرق کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور صنفِ حمد و نعت و منقبت میں بڑی کامیابی کے ساتھ اپنے فکر و فن کے جوہر دکھاتے ہیں ۔
عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے آبِ طہور سے گوندھی ہوئی شاعر کی یہ پاکیزہ فکر ملاحظہ کریں :

جس وقت سے دیکھا ہے درِ پاک کا ذرہ
حیرت کی انگوٹھی میں جڑا دُرّ ِ عدن ہے

وہ خاکِ درِ سیدِ کونین ہے یاور !!!
مہکا ہوا جس خاک سے خوشبو کا بدن ہے

مرے مکانِ تخیّل میں روزِ اوّل سے
کھُلا ہوا ہے دریچہ مرے نبی کی طرف

حضور کرتے جو گلگشت آ کے اے یاور
ہرا بھرا مری سانسوں کا گلستاں ہوتا

مری عمارتِ فکر و خیال کا آقا !!
اک ایک ذرہ ہے تجھ پر نثار برسوں سے

ہے تیری نعت نگاری مرے رسولِ کریم
مرے لئے سببِ افتخار برسوں سے

میں شہرِ مدینہ کی زمیں چوم رہا ہوں
لگتا ہے کہ فردوسِ بریں چوم رہا ہوں

میں خاک مدینے کی لئے ہاتھ میں اپنے
تارے تو کبھی ماہِ مبیں چوم رہا ہوں

شعر و سخن کی دنیا میں ہر ایک شاعر کا ایک مخصوص ” شعری نظریہ ” ہوتا ہے جو اس کی تمام شاعری پر حاوی ہوتا ہے ۔ یاور وارثی کا شعری نظریہ ” نعت گوئی کا فروغ ” اور ” جذبۂ عشق ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ” ہے ۔ ان کا کُل شعری اثاثہ اور فکری سرمایہ صرف اور صرف نعت گوئی کے لئے وقف ہے ۔ ان کے سارے مجموعہ ہائے کلام کھنگال ڈالیں ، ہر ایک میں اسی نظریے کی بالا دستی نظر آئے گی ۔ اسی لئے تو صاف لفظوں میں کہتے ہیں :

تمام عالم سے داد لے لو مگر ہماری نظر میں لوگو !!!
ہو مدحتِ مصطفیٰ سے خالی تو شاعری ، شاعری نہیں ہے

یاور وارثی غزل کے بھی شاعر ہیں ۔ ایک عرصے تک انہوں نے زلفِ غزل کی مشاطگی کی ہے ۔ وہ نعت میں بھی غزل کی سادہ و سلیس زبان استعمال کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نعتیہ شاعری میں ان کا ” رنگِ تغزّل ” جا بجا دیکھنے کو ملتا ہے ۔
تغزل سے متعلق یہ اشعار دیکھیں :

بس ایک بار مرے حجرۂ نگاہ میں آ
میں چاہتا ہوں کہ معراجِ زندگی ہوجائے

وہ اضطراب عطا کر دے اے خدا مجھ کو
پڑے ہوئے درِ آقا پہ دل جگر دیکھوں

کہیں ملا نہ مجھے گوہرِ سکوں آقا
ترے خیال کے دریاؤں میں اتر دیکھوں

نقاب رخ سے ہٹا دے وہ پیکرِ خوبی
تو روشنی کے سمندر میں ڈوب کر دیکھوں

پہنائیے سرکار مجھے طوقِ غلامی
زندانِ محبت کا سزاوار ہوں میں بھی

لگانا اپنی آنکھوں سے مقدر سے جو مل جائے !!
پھر اے دل میرے پیارے دل طوافِ نقشِ پا کرنا

شاعری ، فنونِ لطیفہ کی ایک قسم ہے جس میں ” موسیقیت ” کا اضافہ سونے پر سہاگے کا کام کرتا ہے ۔ موسیقیت لفظوں کی صوت ، بحر اور وزن سے تشکیل پانے والا وہ خاص صوتی آہنگ ہوتا ہے جس کے باعث شعر میں معنوی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے ۔ لفظ کی موسیقیت دو صورتوں میں موجود ہوتی ہے ۔ ایک لفظ کی خارجی موسیقیت جس کا تعلق لفظ کی صوت ( آواز ) سے ہوتا ہے اور دوسرا لفظ کی داخلی موسیقیت جس کا تعلق لفظ کی معنوی تاثیر سے ہوتا ہے ۔ لفظ کی اس داخلی اور خارجی موسیقیت کے امتزاج سے ہی وہ شعری آہنگ پیدا کیا جاتا ہے جو شعر کی موسیقیت کہلاتا ہے ۔
یاور صاحب کے کلام کی ایک فنی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں ” ترنم اور موسیقیت ” کی کیفیت پائی جاتی ہے ، جو سامعین کے دلوں کو چھو لیتی ہے ۔ مندرجہ ذیل اشعار میرے دعویٰ کو دلیل فراہم کرتے ہیں :

مالکِ بحر و بر ، جانِ شمس و قمر دونوں عالم کے سرکار آجائیے
منتظِر کل جہاں آپ ہیں منتظَر دونوں عالم کے سرکار آجائیے

اے حبیبِ خدا ، اے شفیع الوریٰ ، مالکِ دوسرا ، وجہِ روزِ جزا
اے مرے آمنہ بی کے لختِ جگر ! دونوں عالم کے سرکار آ جائیے

جگمگانے لگے ، مسکرانے لگے ، اتنی خوشیاں ملیں ، غم ٹھکانے لگے
منتظر ہے مری آرزوؤں کا گھر دونوں عالم کے سرکار آ جائیے

میرے ناقص خیال میں یاور وارثی صاحب کی تہہ دار فکر و شخصیت اور نعتیہ شاعری اس منزل تک پہنچ چکی ہے کہ اسے تحقیق و ریسرچ کا موضوع بنا کر اس کی ادبی قدر و قیمت متعین کی جاسکے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے صدقے ان کی شاعری کو دوام بخشے اور ان کے عمر و اقبال میں ترقی عطا فرمائے آمین ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے