گجرات کی ایک مسجد جس کا قبلہ ہے بیت المقدس۔ جانیں کیوں؟

بھاؤ نگر ہماری آواز

گجرات کے بھاؤ نگر کے ایک گاؤں گھوگھا میں ایک قدیم مسجد مرکز حیرت بنی ہوئی ہے جس کا قبلہ کعبہ اللہ کی بجاے بیت المقدس کی جانب ہے۔ شاید یہ مسجد 1400 سال پرانی اس وقت کی ہے جب بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ تھا۔
اس مسجد کی عمارت انتہائی خستہ حالت میں ہے؛ مسجد کے اندر قریب 25 افراد ایک ساتھ مل کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔مسجد کے 12 ستون ہیں جن پر مسجد کی چھت تعمیر ہوئی ہے۔ جس پر گنبد بنی ہوئی ہے، مسجد کی دیواروں پر بھی نقاشی کی گئی ہے۔ اور مسجد کے محراب پر عربی میں ‘بسم اللہ الرحمن الرحیم’ کی نقش نگاری اسی دور کی ہے۔
یہ روئے زمین پر ایک ہی مسجد ہوسکتی ہے جس کا قبلہ بیت المقدس کی جانب ہو۔ ساتویں صدی کے اوائل میں جب عرب تجار سمندر کے راستے یہاں اترے تو انہوں نے یہ مسجد یہاں بنائی۔ اس وقت کعبہ کی بجاے بیت المقدس (یروشلم) قبلہ تھا ۔یہ قدیم مسجد مقامی طور پر جونی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔

یہ مسجد ہندوستان کی دیگر تمام مساجد سے ملتی جلتی ہے، جس کے محراب کا سامنا مکہ کی طرف ہے ۔اس قدیم مسجد میں اب بھی قدیم عربی کا سب سے بڑا نوشتہ موجود ہے اور آج یہ مسجد برواڈا تنظیم کی زیر نگرانی ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطابق 610 سے 623 عیسوی تک بیت المقدس کی جانب رخ کرکے نماز پڑھی جاتی تھی اور پھر 624ء سے کعبہ کی طرف رخ کرک نماز پڑھنا شروع ہوئی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسجد تقریبا 1400 سال قبل تعمیر ہوئی تھی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

انتقام کا بوسہ: افسر نے دیا دوسرے افسر کو بوسہ پھر بولا "کورونا سے متاثر ہوں”

اسلام آباد: پاکستان کے شہر کراچی میں کورونا وائرس کا ایک عجیب و غریب معاملہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے