نظم: نشہ اتاریں گے اس کا کسان، لگتا ہے

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان

انا کی دُھن میں جو یہ حکمران لگتا ہے
مٹے گا اِس کا بھی نام ونشان ، لگتا ہے

گلوں پہ سخت مصیبت ہے اور یہ ہے خاموش
چمن کے بغض میں خود باغبان لگتا ہے

ہے اقتدار کی مستی میں وقت کا حاکم
نشہ اتاریں گے اس کا کسان ، لگتا ہے

مجھے تو سچ کی حمایت میں بولنا ہے سدا
لگا کرے جو کوئ بدگمان لگتا ہے

نظر وسیع کرو ! پھر سمجھ میں آئے گا
دھواں ہے ، یہ جو تمہیں آسمان لگتا ہے

یہ وقت وقت کی ہے بات ، کھیت کو دیکھو
کبھی ہے گیہوں ، کبھی اُس میں دھان لگتا ہے

خوشی کی دائمی منزل ہے راہِ صبر کے بعد
اَلَم کی حد سے ، شفا کا مکان لگتا ہے

الٰہی بخش دے میرے وطن کو شادابی
بجھا بجھا مرا ہندوستان لگتا ہے

فریدی تیرا قلم، وقت کا ہے آئینہ
زبانِ حال کا تو ، ترجمان لگتا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تبصرہ بر "شعر کیسے بنتا ہے” از شہزاد احمد کھرل شاذ

الحمدللہ آج بتاریخ 17/ اپریل 2021 بروز سنیچر استاد محترم جناب شہزاد احمد کھرل شاذ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے