انسانی حقوق کا تصور سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا

تحریر: محمد ہاشم قادری صدیقی، جمشیدپور

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فر مایا اور اسے اپنی مخلوق میں سب سے اعلیٰ درجہ دے کر انسانوں پر احسان عظیم فر مایا۔رب نے فر مایا: تر جمہ:بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔(القرآن سورہ،التین،95,:آیت4)کنزالایمان)
اللہ نے انسانوں کو عقل،علم، قوتِ گویائی،”پاکیزہ صورت”،مُعْتَدَل قدو قامت عطاکیے،جانوروں سے لے کر جہازوں تک کی سواریاں عطا فر مائیں اس کے علاوہ لاکھوں چیزیں اولاد آدم کو عطا فر ماکر اسے عزت سے سرفراز( سر بلند، ممتاز، عالی مرتبہ،)کیا اور انسان کو بقیہ تمام مخلوقات سے افضل بنایا۔ دوسری جگہ فر مایا: ترجمہ:اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا۔( القرآن،سورہ بنی اسرائیل17,آیت 70,)(کنز الایمان)
ظاہر سی بات ہے جس مخلوق کو اعلیٰ درجہ وعزت سے نوازا تو اسے زندگی گزارنے کا طریقہ بھی بتایا۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ انسان کو شرف و تکریم سے نوازا گیا اور اس کو بہت سے انعامات و نوازشاتِ رب ا لعا لمین کے باعث اعلیٰ مرتبہ کمال تفویض(اختیارات،سپرد )کیا گیاہے۔ مساواتِ(برابری) انسانی کو اسلام نے بیحد اہمیت دی ہے۔دنیا کا کوئی نظام اور مذہب انسانی مساوات وحقوق کی برابری کر ہی نہیں سکتا۔قرآن و احادیث میں تفصیل،detail, کے ساتھ شواہد موجود ہیں۔
تما م انسانوں کے حقوق برابر ہیں،والیکن؟”اِلَّا بِا تَّقْویٰ”: محسن کائنات ﷺ نے انسانی حقوق میں یہ تقسیم فر مائی ہے کہ لوگوں کو حقوق میں یکساں قرار دیاہے لیکن تکریم میں برابر قرار نہیں دیا” اِلَّا بِا لتَّقْویٰ” آپ ﷺ نے فر مایا: کہ رنگ ونسل اور ذات پات کے اعتبار سے سب انسانوں کے حقوق برابر ہیں،لیکن عزت و تکریم کا مدار تقویٰ "اللہ کا خوف” نیک اعمال وکردار پر ہے۔
آج انسانی حقوق کے حوالے سے بڑی بڑی باتیں،ڈینگیں(شیخی مارنا، لن ترانی ہانکنا) ماری جاتی ہیں۔”اقوام متحدہ نے 10,دسمبر 1948ء کو انسانی حقوق کا آفاقی(پوری دنیا سے تعلق رکھنے والا،انسانی برادری سے متعلق) منشور” united declaration of human) rigthts,) کی قرار داد پیرس میں پاس کی گئی،جسے اہم وسلیقے کی حیثیت سے دنیا بھر کے ممالک میں مشتہر کیا گیا۔ جس کی تیس30,شقیں(شاخیں) ہیں۔۔۔۔ جن میں بعض بہت اہم ہیں(1) کوئی کسی کی آزادی سلب(نہیں چھینے گا)کرے گا-اور نہ کوئی کسی کو غلام بنائے گا۔( قارئین توجہ فر مائیں ٹھنڈے دل سے سوچیں کیا اس پر عمل ہورہا ہے؟) نہیں،نہیں،نہیں۔بالکل نہیں۔اورشقوں کا کیا ذکر کروں؟۔ اس قرارداد کو دوسری عالمی جنگ کے فورً ابعد منظر عام پر لا یاگیا۔دوسری عالمی جنگ میں لاکھوں لاکھ لوگوں کی جانیں گئیں، دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک دنیا میں کتنی جنگیں ہوئیں عراق سے لیکر افغانستان وغیرہ وغیرہ کیا یہ انسان نہیں تھے؟،اقوام متحدہ UNO, کی اس قرارداد کو دنیائے انسانیت کے لئے مسیحا کہاجاتا ہے۔ "سچ اور حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے” سچ اور حق یہ ہے کہ دنیا بھر میں پہلی بار تمام انسانوں کے حقوق کا اعلان اسلام لانے والے محسن کائنات ﷺ نے کیا۔ 1966,ء میں اقوام متحدہ UNO, کی جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے انسانی حقوق کے عالمی بل کو منظور کیا۔ اس انسانی حقوق کی قرارداد کو دنیا بھر کی تقریباً375,زبانوں میں تراجم شائع کیے جا چکے ہیں، جس کی بنیاد پر اس دستاویز( کوئی اہم تحریر، یا داشت، اقرار نامہ، جو آئندہ حوالے کے لیے مفید ہو)document. کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تراجم کی حامل دستاویز کا اعجاز حاصل ہے۔ اس کی اہمیت سے تو انکار نہیں،لیکن کیا سچ میں آج اقوام متحدہUNO, کے ذریعے اِنسانی حقوق کی حفاظت ہو پارہی ہے؟۔فلسطین سے لیکر سیریا، بر ما سے لیکر کشمیر، افغانستان و غیرہ میں ہو رہے ظلم و ستم کا منظر نامہ دنیا وUNO, دیکھ رہی ہے،اقوام متحدہ کے اجلاسوں میںمظلوموں کے لیے ہو رہی قرار دادوں کو اسرائیل، امریکہ،روس، فرانس ،جر منی ویٹو، VETO کر رہے ہیں دنیا کی سپر پاور ملکوں کے ساتھ دوسرے ممالک بھی من مانی کررہے ہیں۔
؎ ہزاروں ظلم ہوں مظلوم پر تو چپ رہے دنیا ٭ اگر مظلوم کچھ بولے تو دہشت گردی ہے (ضمیر اترولوی) پوری دنیا نے دیکھاپہلے کس طرح کشمیر میں نہتوں کو لاک ڈائون میں ڈالدیا گیا؟ دنیا دیکھتی رہی کسی نے کچھ بھی نہیں کہا۔
؎ یہ ظلم دیکھئے کہ گھروں میں لگی ہے آگ ٭ اور حکم ہے مکین نکل کر نہ گھر سے آئیں(محسن زیدی)
عقلمندرا اشارہ کافی است؟۔
محسن کائنات ﷺ کی سیرت میں انسانی حقوق: سچ یہی ہے کہ اسلام کے لانے والے آقا ﷺ نے ہی نفرت بھری دنیا میں اخوت کا صور پھونکا ،پیغام دیا( بھائی ہونے کا رشتہ،جس کا صدر اسلام میں خاص طور سے رواج تھا، باہم بھائی چارہ کا قول و قرار) محبت و وحدت انسانی کا پیغام عام کیا۔ اور تَقْویٰ۔ کو بزر گی کا میعار قرار دیا۔ محسن کائنات ﷺ پر جوکلام الٰہی نازل ہوا اس کے اعلان پر قربان جائیں،اقوام متحدہ کے ”انسانی حقوق کے آفاقی منشور” کی طرح ہزاروں ہزار منشور ( حکم نامہ، شاہی فر مان) بن جائیں تب بھی ،انسانی حقوق کا جو منشور رب تبارک و تعالیٰ نے و محسن کائنات ﷺ نے دیا آ نے والی صبح قیامت تک کوئی حکومت ،اسلام کے سوا کوئی مذہب دے ہی نہیں سکتا۔ ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیںاور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پر ہیز گار ہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔( القر آن، سورۃ الحجرات،49:آیت13) ایک مرد حضرت آدم علیہ السلام اور ایک عورت حضرت حوا رضی اللہ عنھا سے پیدا کیا اور جب نسب کے اس انتہائی در جہ پر جاکر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں ایک دوسرے پر فخر اور بڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں،سب برابر ہو اور ایک جدِّ اعلیٰ کی اولاد ہو،اس لئے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو۔ محسن کائنات ﷺ نے خطبہ حجۃ ا لوداع میں مجمع صحابہ میں اس آیت کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے فر مایا:ـ”اے لوگو! خبردار ہو جائو کہ تمھارارب ایک ہے اور بیشک تھمارا باپ آدم علیہ السلام،ایک ہے نہ تو کسی عربی کو عجمی پر فضیلت اور نہ عجمی کو عربی پر، نہ سفید رنگ والے کو سیاہ فام پر تر جیح ہے، نہ سیاہ فام(کالے) کو سفید پر،مگر ہاں! فضیلت ہے صرف تقویٰ کے۔( احمد بن حنبل،المسند،5:411,، حدیث23536) آج ساری دنیا اقوام متحدہ،UNO, کے انسانی منشور کے ڈھنڈورے پیٹ رہی ہے ۱ور خوب بڑھا چڑھا کر اس کی جے جے کار کر رہی ہے،اُوپر کی تحریر میں مختصر لکھا جاچکا ہے۔
حیوانات کے حقوق محسن کائنات ﷺ کی سیرت میں: رحمتِ عالم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ فر مائیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی،ایمان مضبوط او ر تازہ ہو جائے گا(ساتھ میں یہ بھی شرط اورگزارش ہے کہ محسن کائنات ﷺ کی سیرت پر عمل بھی کریں!) اسلام نے تو جانوروں کے حقوق بھی مرتب کیے ہیں۔
آج ہر مذ ہب والے اپنے کو انسانیت کا علمبردار بتارہے ہیں،لیکن حقیقت وسچائی تو یہ ہے کی انسانوں ودوسری مخلوق کے مسیحا محسنِ کائنات حضرت محمدمصطفی ﷺ ہی ہیں دنیا اس کو مان رہی ہے۔ محسن انسانیت بلکہ محسن کائنات ﷺ حضور کی ذاتِ مقدسہ ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام نے فر مایا کہ آپ کی ذات والا صفات کو فقظ محسن انسانیت بتا نا نااِنصافی ہے ،آپ محض انسانوں کے مسیحا نہیں بلکہ حیوانات کے حقوق کے بھی علم بردار ہیں علامہ ضحاک علیہ الرحمہ اپنی کتاب المفردات میں فر ماتے ہیں”خالق عالم نے اس عظیم ہستی کو رحمۃاللعالمین کا بجا اعزاز (لقب) عطا فر مایا”۔ آپ فر ماتے ہیں کہ رحمۃ اللعا لمین کے یہ الفاظ اگر سونے سے یا سنہرے حروف سے بھی لکھے جائیں تو بھی آپ کا حق ادا نہ ہوگا اور تا قیامت ادانہیں ہوسکتا۔ رحمۃ اللعا لمین کی رحمت محض انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ آپ بے زبان جانوروں،پرندوں کے حق میں بھی فرشتہ ٔ رحمت تھے۔ اگر کسی انسان پر ظلم کیا جائے تو وہ اس کا اظہار کرسکتا ہے،لیکن بے زبان چرند وپرند ایسا نہیں کرسکتے اس لئے رحمت دوعالم ﷺ اکثر اپنے صحابہ کرام کو یہ فر مایا کرتے تھے کہ تم خدا کی اس بے زبان مخلوق پر ظلم اور زیادتی نہ کرو۔ دربار نبوی لگا ہواتھا ایک صحابی مجلس میں آئے انہوں نے چادر اوڑھی ہوئی تھی، محسن کائنات ﷺ نے دریافت کیا اس میں کیا ہے؟ صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ میں جنگل سے گزر رہاتھا کہ ایک جھاڑی میں چڑیا کے بچوں کی آواز آئی، میں ان کو وہاں سے اُٹھاکر لے آیا ہوں، رسول مقبول رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فر مایا تمہیں ایسا نہیں کر نا چاہیئے تھا جائو اسی وقت یہ بچے اس جھاڑی میں رکھ آئو بچوں کی ماں کو سخت تکلیف ہو رہی ہوگی،سبحان اللہ !سبحان اللہ! یہ ہے محسن کائنات کی رحمت انسان تو انسان ہیں حیوانات کے حقوق کی بھی پاسداری فر مائی، احادیث طیبہ میں بہت سے واقعات موجود ہیں،مضمون طویل ہوگیا ہے۔ اسلام نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور چوپایوں ودیگر حیوانات کے حقوق مرتب کئے، سید نا عمر فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ احساس تھا کہ میرے حدود خلافت میں اگر کوئی خارش( کھجلی) والی بکری اپنے مرض کا علاج نہ پاسکی تو مجھے خوف ہے کہ رب تعالیٰ کے حضور مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ سید نا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ اپنے تما م عاملین( گور نروں) کو یہ حکم جاری فر مایا تھا کہ کسی اُونٹ پر6,چھ سو رطل سے زیادہ وزن ہرگز نہ لادا جائے۔۔۔ یہ انہیں پاکیزہ تعلیمات کا اثر ہے،جو رحمت عالم ﷺ نے دنیا کودیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے