غزل: لے کے بیٹھے ہیں پیار آنکھوں میں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

لے کے بیٹھے ہیں پیار آنکھوں میں
بے شمار ہے خمار آنکھوں میں

رات بھر جاگتی رہیں آنکھیں
کیونکہ تھا انتظار آنکھوں میں

اور کوئی نہ بھا سکا ان کو
کیونکہ بستا ہے یار آنکھوں میں

یہ کسی طور بند نہ ہو پائیں
سپنے تھے بے شمار آنکھوں میں

کوئی تو آئے یہ سکوں پائیں
لٹ چکا ہے قرار آنکھوں میں

دیکھ لیں جب یہ اپنے پیاروں کو
اتر آتی بہار آنکھوں میں

آؤ فیضان مل آئیں آج ان کو
چین ہو بے قرار آنکھوں میں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد

سعادت گنج/بارہ بنکی:6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز) بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ آئیڈیل انٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے