منقبت: غم ہوئے کافور راحت ہوگئی

نتیجۂ فکر: واحد نظیر

خستہ حالوں کےلیےچھت ہو گئی
ظلِّ قدرت، قادریّت ہو گئی

نیل گوں گنبد، زمیں پر آسماں
موند لیں آنکھیں زیارت ہو گئی

غوث کےدیوانے سب ہیں قادری
غائبانہ سب کی بیعت ہو گئی

اےسکونِ جاں! سکوں درکار ہے
جاں سکونت گاہِ کلفت ہو گئی

گردشیں لپٹی ہیں قدموں سے شہا
پھر سے عریاں بربریّت ہو گئی

اک نظر اے شاہِ جیلاں دیکھ لیں
کیسی دکھیاروں کی حالت ہو گئی

گرد اُن قدموں کی گردن پر پڑی
اور تصدیقِ ولایت ہو گئی

بے ردا ہے رمز، مدحِ غوث میں
بے زباں کیسی، صراحت ہو گئی

ذکر، غوثِ پاک کے قدموں کا تھا
فکر جب کوتاہ قامت ہو گئی

عظمتِ غوث الورٰی کے سامنے
شاعری سر تا پا لُکنت ہو گئی

فیضِ غوثِ پاک سے واحد نظیر
غم ہوئے کافور، راحت ہو گئی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد

سعادت گنج/بارہ بنکی:6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز) بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ آئیڈیل انٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے