ملازمین اور تجار نے کسانوں کی حمایت میں کیا مظاہرہ

حکومت سے متنازع زرعی قوانین کو واپسی کے لیے کی اپیل

ہماری آواز چنڈی گڑھ
چنڈی گڑھ ، 08 دسمبر (نامہ نگار) ہریانہ پردیش ویاپارمنڈل کے اعلان پر ، تاجروں ، کسانوں اور ملازمین نے کسانوں کی تحریک کی حمایت میں ریاست میں ایک زبردست دھرنا مظاہرہ کیا جس کے تحت ہریانہ پردیش ویاپار منڈل کے صوبائی صدر اور آل انڈیا ٹریڈ بورڈ کے قومی جنرل سکریٹری بجرنگ گرگ کی صدارت میں حصار میں پریجات چوک پر ایک مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج کے بعد ، وزیر اعظم نریندر مودی کے، امبانی اور اڈانی کے پتلے جلاکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
ویاپار منڈل کے صوبائی صدر بجرنگ گرگ نے آج کہا کہ کسانوں کی تحریک کے ساتھ ملک کے ہر شہری کا بھارت بند میں تعاون ہے۔ ویاپار منڈل نے ریاست بھر میں مختلف مقامات پر مظاہرہ کرکے بھارت بند میں حصہ لیا۔ بھارت بند کی کامیابی کے پیش نظر مرکزی حکومت کو فوری طور پر تین زرعی قوانین واپس لینے چاہئے۔ اگر حکومت زرعی قوانین کو واپس نہیں لیتی ہے تو پھر حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
مسٹر گرگ نے کہا کہ تینوں زرعی قوانین سے ملک کی معیشت مزید ڈگمگا جائے گی کیونکہ کسانوں کو ان کی فصلوں کی پوری قیمت نہیں ملے گی اور منڈیاں بند ہوجائیں گی۔ جس کی وجہ سے کسانوں اور ملازمین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ، آج پورے ملک کے کسان ، نوکر ، مزدور اور عام آبادی سڑکوں پر ہے ، جو ان داتا ملک اور بیرون ملک کے عوام کو کھلاتا ہے ، آج اسی کسان کو اپنے حق کے لئے گونگی بہری مرکزی اور ریاستی حکومت سے لڑنا پڑ رہا ہے یہ حکومت کسان ، تاجر ، مزدور و ملازمین کی مکمل طور پر مخالف ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سے اپیل ہے کہ وہ کسان ، محنت کش مزدور اور ملک کے مفاد میں تینوں زرعی قوانین کو فوری طور پر واپس لے کر کسانوں کو راحت دینے کے لئے کام کریں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

پریڈ کے لیے تیاریاں زوروں پر کنڈلی بارڈر سے انبالہ تک لگی ٹریکٹروں کی قطاریں

ہماری آواز/سونی پت، 24 جنوری (پریس ریلیز) قومی شاہراہ نمبر 44 پر کنڈلی بارڈر سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے