اصراف ترک کرکے نکاح کو آسان بنائیے

تحریر: محمد اورنگزیب مصباحی، گڑھوا جھارکھنڈ
(رکن: مجلس علمائے جھارکھنڈ)


مکرمی!
اللہ رب العزت کا بے پناہ شکر و احسان ہے جس نے تمام مخلوقات کی تخلیق کے ساتھ اس کے رہنے سہنے اور اس کے سکون کا پورا پورا بندوبست کیا ہے۔وہیں اسلام نے ہر کام کا سلیقہ بھی ہمیں بتایا ہے جس میں ہمارے قلبی سکون کے ساتھ ہماری عزت کا بھی خیال رکھا گیا ہے کیونکہ کوئی بھی کام باآسانی ہو جانے کے باوجود اگر اس میں عزت ،جان،مال وغیرہ کا خطرہ ہو تو ہرگز اطمینان بخش نہیں ہو سکتی۔
شادی ایک اہم سماجی فریضہ ہے جس سے تقریبا سبھی مذاہب کے سبھی مکتبہ فکر کو گزرنا پڑتا ہے چاہے کسی بھی خطے کا ہو مگر سب کا طریقہ سلیقہ رنگ ڈھنگ جداگانہ ہے
کسی مذہب میں اسے زندگی اور ما بعد کا رشتہ مانا جاتا ہے اگرچہ اسی کے پس پردہ عورتوں کو ذلیل اور رسوا کیا جاتا ہے ،تو کسی مذہب میں اسے جنسی تڑپ کو بجھانے کا ایک مخصوص عمل ہے اور یہ صورت مطلب پرستی کی جانب گامزن ہے کیونکہ جب تک مرد و عورت لطف اندوز ہوتے رہیں گے ایک دوسرے کے ساتھی رہیں گے مگر جب یہی لطف ختم ہوجائے گا تو دونوں جداجدا اور بیچارہ ہو جائیں گے اور بڑھاپے میں اس مطلب پرستی کا وبال جھیلنا پڑتا ہے اسی طرح مختلف مذاہب میں مختلف نظریے ہیں مگر اسلام کا نظریہ ان سے بالکل مختلف اور جداگانہ ہے اس کا نظریہ یہ ہے کہ دو اجنبی جب نکاح کے بندھن میں جڑ جاتے ہیں تو ایک دوسرے کے لئے بدن اور روح جیسا تعلق ہو جاتا ہے یعنی میاں بیوی محبوب اور محبوبہ سی زندگی گزارتے ہیں اگرچہ وہ بڈھے ہی ہو جائیں مگر محبت میں کچھ بھی فرق نہیں پڑتا۔ مگر جب ان میں آپسی موافقت ممکن نہ ہو تو انہیں طلاق یا خلع کے ذریعہ الگ ہوجانے کا بھی اختیار ہے تاکہ نکاح ایک جبری رشتہ کی شکل اختیار نہ کر سکے۔
پھر یہ اسلامی طریقہ نکاح حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر قیامت تک کے لئے عظیم عبادت اور نسل انسانی کے وجود میں آنے اور باقی رہنے کا ذریعہ اور علماء و صلحاء کی پیدائش کا بہترین سبب ہے ورنہ کسی کا نسب ہی ثابت نہ ہو یا نسل انسانی ہی منقطح ہو جائے۔
اس کے واضح اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر قوم نے اپنے اپنے معاشرتی طریقے وضع کر رکھے ہیں جس میں کئی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ یہ رسومات یا تو بے حد بے شرم بناتی ہیں یا پھر اس کے ہمنواؤں کو مالی اور ذہنی تکلف یا تکلیف کی وجہ سے لوگوں میں تنگدستی، مفلسی اور غربت پھیلاتی ہیں۔
اسلام میں بھی شادی کو ایک اہم سماجی تقریب کا مرتبہ حاصل ہے جو کہ دیگر مذاہب کے بنسبت بہت آسان ہے اور وہ ہے مہر ، لڑکا لڑکی کی رضامندی اگر وہ بالغ ہوں ورنہ اولیاء کی۔اور دو گواہوں کے ساتھ نکاح پڑھایا جانا یہ رہے ضروری امور۔اور امور مستحبہ کی بات کریں تو اگر استطاعت ہو تو بغیر کسی تکلّف کے ولیمہ کا انتظام کیے جائیں جس میں رشتہ داروں کی کثرت سے قطع نظر غرباء ومساکین کی کثرت کا خیال رکھا جائے اور میسر ہو تو دولہا دلہن کے لئے تحفے لے جائیں چونکہ اسلام نے حیات انسانی کے ہر گوشے میں غرباء اور مساکین کا خیال رکھا ہے تو کچھ صدقات بھی کر دیں تاکہ غرباء و مساکین کا بھی بھلا ہو جائے اورآپ کی شادی میں کچھ برکت بھی ہو جائے یہی اسلامی شادی ہے اس سے اللہ تعالی بھی خوش ہو گا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ۔
اصراف میں غلط رسوم کا کردار
اسلامی شادی اور موجودہ دور کی شادیوں میں موازنہ کیا جائے تو آسمان و زمین کا فرق محسوس ہو گا کیونکہ شادی جو اس قدر آسان ہے مگر لوگوں کے رسم و رواج اور ان کی فضول خرچیوں نے اسے اس قدر گراں بنا دیا کہ شادی کی بات چلنے سے لے کر قدم قدم ایسی رسومات ادا کی جاتی ہیں جن میں کثرت سے مال و دولت خرچ ہوتا ہے اور متعلقین کو بھی بار بار مال کے ساتھ وقت بھی دینا پڑتا ہے اور ہر رسم و رواج میں تحفے تحائف کا رواج ہو چکا ہے
چاہے اس کے متعلقین یا رشتہ دار غریب سے غریب تر ہی کیوں نہ ہو ان سے تحفے لیے جاتے ہیں اور وہ غریب لوگ بھی تحفے دینے پہ مجبور ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھی رسم و رواج کے بندھن کو ایسے ہی ضروری سمجھتے ہیں جیسے بیمار کے لئے دوا کو ضروری سمجھتے ہیں اگر وہی شادی والا شخص کسی خطرناک بیماری کا شکار ہو جائے تو کل وہی دوست جو ڈھیر سارے تحفے تحائف لایا کرتا تھا آج اس سے منہ موڑتا نظر آتا ہے اس کے پاس حال پرسی کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا۔ حالانکہ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو ان میں سے اکثر رسومات ہندوانہ ہوتے ہیں یا مغربی تہذیب کا عطیہ ہوتے ہیں۔
ہمارے لئے ضروری ہے کہ غلط رسم و رواج کے بندھن کو توڑ کر فضول خرچی کے اڑان کو روکا جائے اور نکاح کو آسان بنائیں کیونکہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اسی شادی کو برکت والی قرار دیا جس میں (فریقین کا خرچ کم ہو) بوجھ کم ہو( مسند احمد)
اسی حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں "یعنی جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے مہر بھی معمولی ہو، بھاری بھرکم جہیز بھی نہ ہو کہ کسی جانب کوئی مقروض نہ ہو یا کسی جانب سے سخت شرط بھی نہ ہو اور اللہ کے توکل پر لڑکی دی جائے وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے (مرأۃ المناجیح)
تاخیر نکاح میں بہانہ مفلسی نہ بنائیں
ہمارے معاشرے میں اکثر شادی نہ کرنے یا تاخیر کرنے کی وجہ "غربت، مفلسی اور خراب معاشی حالت” بتائی جاتی ہے کہ بچہ یا بچی اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے اور دولت کی فراوانی بھی ہو جائے جو اخراجات کی بھرپائی کے ساتھ کچھ بچت بھی ہو جائے۔ پھر شادی کے بعد کے کچھ خدشات بیان کیا جاتا ہے کہ "کہاں رکھیں گے، اس کا انتظام اور اس کے اخراجات کی ذمہ داریاں کون اٹھائے گا۔حالانکہ شادی کے بعد وہی فقیری رہتی ہے اسی قدر خرچ ہوتے ہیں اور کوئی خاص پردے کا بھی انتظام نہیں ہوتا۔اور یہ اللہ تعالی کی ذات پر توکل کی کمی اور گناہوں میں مبتلا رہنے کا بہانہ ہے ورنہ تو رزق سب کا الگ الگ ہوتا ہے جس کا انتظام اللہ تعالی فرماتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے”ترجمہ:تم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں اورتمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کے نکاح کر دو اگر وہ فقیر ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا ۔
نکاح سے رزق میں برکت کے متعلق احادیث
(١) تم نکاح کے ذریعے رزق تلاش کرو (٢) عورتوں سے نکاح کرو کیونکہ وہ تمہارے پاس (اللہ کی جانب سے) مال لائیں گی (٣)حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو نکاح کے بغیر غنی ہونے کی کوشش کرتا ہے جبکہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگر فقیر ہوں گے تو اپنے فضل سے وہ غنی کر دے گا ۔اس طرح اور بھی کثرت سے احادیث وارد ہیں جن میں نکاح کے ذریعے دولت میں کثرت کا ذکر ہے۔
تنگدستی کا حل
کیونکہ ہم نے تعلیمات رسول کو چھوڑ دیا ہے اسی لیے ہم تنگدستی کے شکار ہیں ہمیں چاہیے کہ تعلیمات رسول کو عام کریں ،شادی بیاہ سے حرام کاریوں کا خاتمہ کریں، رسم و رواج کو ختم کریں،اور اس میں رائج فضول خرچیوں کو بند کریں اور خاص کر دہیز جیسی بلا کو ختم کریں اور نکاح کو اس قدر آسان بنائیں کہ برائی (زنا،چھیڑخانی، بلاتکاری وغیرہ) بالکلیہ ختم ہوجائے ورنہ ہم رسوم و رواج کے بندھن میں پستے جائیں گے اور پورا مسلم معاشرہ مفلسی اور تنگدستی سے برباد ہو جائے گا اور ہم دنیا و آخرت دونوں میں رسوا ہوں گے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے