ملک کے موجودہ حالات کہیں ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ تو نہیں؟

تحریر: شاہ نواز عالم مصباحی ازہری

سربراہ اعلی جامعہ حنفیہ رضویہ مانکپور شریف کنڈہ پرتاپگڑھ 9565545226

ہمارا ملک ہندوستان ایک جمہوری ملک رہا ہے یہاں ہمیشہ بھائ چارہ اور امن وامان کی حکمرانی رہی ہے ۔لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں عدم تحفظ بڑھتا جارہا ہے لوگوں  کے دلوں میں الفت ومحبت کی جگہ دشمنی وحسد نے جگہ بنا لیا ہے خاص طور پر مسلم طبقہ کے لوگوں کے دلوں سے چین وسکون چھین کر درندگی اور بے چینی کا شکار بنایا جارہا ہے ۔ملک سے جمہوریت وقانون کے گردن پر چاقو چلائ جارہی ہے، قانون کی جگہ غنڈہ گردی اور مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کو بڑھاوا دیا جارہا ہے، مذہب کے نام پر لوگوں کے دلوں سے بھائ چارگی اور اخوت ومحبت نکال کر خوف وتشد د کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے، ملک کو سیکولزم اور جمہوریت کی راہ سے ہٹا کر ہندوراشٹر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ملک میں مسلم طبقہ کے لوگوں کو تنہا اور بے دست وپا کرنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی  کا زور لگایا جارہا ہے ، کبھی گائے کے تحفظ کے نام پر تو کبھی لوجہاد جیسے غلط اور غیر تناسب قانون کو ایجاد کرکے اسکے گھیرے میں مسلمانوں کو لاکر مارا پیٹا جارہا ہے اور موت کی گھاٹے اتار دیا جارہا ہے اور انہیں خوف ودہشت کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے، مسلمانوں کو ان مسائل کے بنیاد پر ناکردہ جرائم کی سزادی جارہی ہے ۔موجودہ حکومت اس وقت  ہندوستان کے مختلف صوبہ میں اےوی ایم مشین کے زریعے اپنی اکثریت ثابت کرتی ہوئ نظر آرہی ہے تو بھلا اس سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کے تحفظ کا ذمہ حکومت کے کاندھے پر ہے، ملک کے گوشہ گوشہ میں مسلم مخالف پارٹی اور ایجنڈ جسے بجرنگ دل، وشوہندو پریشد اور بی جے پی کہا جاتا ہے ہر جگہ مسلم سماج کے خلاف کبھی مسجد ومدرسہ کو لیکر تو کبھی رسول کی شان میں گستاخی کرکے تو کبھی قرآن وحدیث کو جلا کر کے مسلمانوں کے دلوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہوئ نظر آرہی ہے ، اور جگہ جگہ پر بے قصور مسلمانوں کو مارا پیٹا جارہا ہے کہیں  پہ بے چارے بے قصور مسلمانوں کو گائے کے نام پر مار پیٹ کر کے انکے بیوی بچوں کو یتیم کیا  جو آج تک در در کی ٹھوکر کھاریے اور  کہیں انصاف نہیں مل رہا ہے  ۔یہ مسلم مخالف پارٹیوں کے ممبران اور کارکنان جگہ جگہ اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں، اور ملک میں ہر اس قانون کو نافذ کیا جارہا ہے جس کو آر ایس ایس اور ہندو تنظیمیں چاہتی ہیں اور ہمیشہ عدم تحفظ وتشدد والے بیانات کو میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے پورا میڈیا مسلمانوں کے عائلی مسائل کو لیکر نام نہاد مسلمان مرد وعورت  کی باتوں میں آکر خصوصا طلاق ثلاثہ کے خلاف نام نہاد مسلم عورتوں کی زبانی ہمدردی میں دن ورات لگے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔نیز لو جہاد کے نام پر مسلم سماج کے نوجوانوں کو بے قصور پھنسایا جارہا ہے ۔اگر اس وقت یہ کہا جائے تو بجا  ہوگا کہ جمہوریت کے چار ستون ہیں، عدلیہ، پارلیمنٹ، میڈیا، اور انتظامیہ ۔ان چاروں ستون پہ بی جے پی کی حکمرانی ہوچکی ہیں ۔رہی سہی  کچھ امید وابسطہ ہے تو بس سپریم کورٹ سے اب یہ حکمراں پارٹیاں جب چاہے فیصلہ اپنے حق میں نافذ کر لیتی ہیں ۔۔ایسے حالات میں جہاں ہمیں یکجا ہوکر ہندوستان کی جمہوریت کو ثابت کرنا ہے وہی اپنے وجود کو احساس دلانے کی ضرورت بھی ہے ہمیں مذاہب ومسالک اور مشربی اختلافات سے دور ہو کر اتحاد واتفاق کی شمع روشن کر کے ملک کی سالمیت اور ملک کی جمہوریت اسکے بقاء کے لیے جد وجہد کرنا ہوگا، اسلام کے پیغام امن وامان اور اخوت ومحبت کو عام کرکے انسانیت وہمدردی اپنے غیروں چھوٹوں اور بڑوں کے دلوں میں ڈالنا ہوگا، ہمیں اسلام کی تعلیم وثقافت وتہذیب وتمدن سے آشنا ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا اہم رول دیکھانا ہوگا، جہاں ہمیں اپنے رب سے تعلقات کو استوار کرنا ہے ،کہیں ایسا تو نہیں کہ ساری چیزیں ہمارے بد اعمالیوں کا نتیجہ تو نہیں ہے جو یہ حکمراں ہم پر مسلط ہیں؟ کیونکہ ہمارے اعمال اس لائق نہیں کہ ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کھڑا ہوسکے۔اپنے اعمال کے نتیجہ میں ہم پہ  حکمراں مسلط ہوتے ہیں ۔اس پر فتن دور میں مسلمانوں کو چند اہم امور پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔سب سے پہلے تو اپنی بد اعمال پر اللہ رب العزت کے رو برو رونا گڑ گڑانا اور اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونا اور اللہ رب العزت کے حضور معافی طلب کرنا ہوگا ۔اللہ رب العزت غفور ورحیم ہے ۔رجوع وانابت الی اللہ کی کیفیت ہر وقت اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا ۔دوسرا یہ کہ تمام مسلمان کو متحد ومتفق ہوکر اپنے دعوت وتبلیغ کے فرائض کو اچھی طرح انجام دینا اور اچھی طرح سمجھناہوگا۔اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں خیر امت کے لقب سے نوازا ہے اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے نفع پہونچانے کے لئے پیدا کئےگئے ہیں اس لئے اپنی دعوتی  فریضہ انجام کو اپنے برادران وطن کے درمیان اچھے اخلاق وکردار اور نہایت حکمت کے ذریعے پیش کرنا ہوگا ۔جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ اپنے رب کی طرف بلاؤ حکمت اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو اس نقشہ قرآن کریم کے تحت حکمت  وموعظت حسنہ کے ذریعے اسلام کی حقانیت اور سچائ کو اسی طرح ثابت کرنا ہے ۔اور برادران وطن کے ساتھ اچھے اور خوب تر انداز میں اسلام کی دلائل اور حقانیت کو ثابت کرنا ہے ۔تاکہ وہ ہمارا غیر ہم سے دشمنی کے بجائے دوستی کرنے پر امادہ ہوجائے یہ سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کے ذریعے سے ہم غیروں کے دلوں میں اپنی محبت والفت کی جگہ بنا سکتے ہیں نیز ہمیں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم پر بھی زور دینا ہوگا اور اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ وپیراستہ کرنا ہوگا۔  تاکہ اپنے وجود کو ملک کے لئے ثابت کرسکیں ۔کہ ہم میں کچھ انجینئر ڈاکٹر، سائنس دان اور دیگر علوم وفنون کے کچھ ایسے ماہرین ہوں کہ جن کے ذریعے ملک وقوم کے لوگوں کی خدمت بلاتفریق مذہب وملت کرسکیں لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ یہ اشخاص ساتھ  میں دینی ذہن کے حامل بھی ہو ں ورنہ اگر دینی تعلیم کے حامل نہ ہونگے تووہ اشخاص مفید نہیں بلکہ مضر ثابت ہونگے ۔امت مسلمہ کے لئے ۔جیسا کہ موجودہ دور میں کچھ  نام نہاد مسلم مرد وعورت میڈیا کہ سامنے مذہب اسلام ومسلمان پہ بدنماداغ لگارہے ہیں، اگر دینی ذہن کے حامل ہونگے تو حکمت وموعظت حسنہ واچھے اخلاق وکردار کے ذریعے سے اسلام ومسلمان کا صحیح پیغام ملک میں اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لئے مفید ہونگے، حالات ومشکلات کے اس دور میں مسلمانوں کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے آراستہ ہوکر سیاست میں سرگرم حصہ لینے کی ضرورت ہے ۔ہم چھوٹے یا بڑے پیمانے پر سیاست میں حصہ لیکر اپنی طاقت وقوت ثابت کرنے کے بجائے حالات سے سمجھوتہ کرکے حالات کو اپنے حق میں ثابت کرنے کی ضرورت ہے ہم خود اس حالت وپوزیشن میں ہوجائے کہ ہم خود حالات بناسکیں ۔جو سیاست میں ملکی حالات اور مسلمانوں کے مناسب ہو اس۔سیاست میں شامل ہوکر ملک اور جمہوریت کے حق میں جو بہتر ہوسکتا ہے اسکے لئے ہمیں کوشش کرنا ہے جس کی تائید بڑے بڑے علماء ومفتیان کرام نے فرمائ یے ۔میڈیا موجودہ دور میں وہ حقیقت ہے جس کا کوئ انکار نہیں کرسکتا ہے جو آج ملک کے موجودہ حالات میں ہورہا ہے یہ سب میڈیا کی دین ہے جو سچ کو جھوٹ بنا کر مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈہ بنا کر پیش کرتا ہے کسی کو یہ ساری چیزیں دیکھنا ہو تو میڈیاسے سیکھیں ۔لوگوں کے دلوں ودماغ میں یہی بات بیھٹتی ہے جو میڈیا گردانتا ہے آج کل 95فیصد میڈیا پر موجودہ حکمرانوں کا قبضہ ہے جو حکومت کہتی ہے اسی کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو ۔ملک کے بھائ چارہ اور اخوت ومحبت کو ختم کرنے میں میڈیا کا اہم رول یے اور موجودہ حکومت میڈیا کے ذریعے سے لوگوں کے دلوں میں مسلمانوںکے خلاف نفرت کی بیج  ۔5فیصد میڈیا مثبت ذہن کے ہیں جن کی آواز پنجرے میں طوطے کی مانند ثابت ہے ۔یہ گودی میڈیا جس کی تعداد 95فیصد ہے جس کو چاہے دیش بھگت بنادیں اور جس کو چاہے دہشت گرد اور مجرم ٹہرادے، لہذا ہمیں بھی میڈیا کے ذریعے سے اپنی آواز مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ان صورتوں میں ہمیں اپنی ہمت ہار کر ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں ہے غمزدہ ومایوس نہیں ہونا ہے جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم کمزور نہ ہو اور نہ غمزدہ ہو اگر حقیقی مومن رہوگے تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی ۔یعنی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اسکے رسول کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر اللہ سے لو لگا کر کے میدان عمل میں سرگرم ہونا ہے اور اپنے اعمال کی درستگی کے ساتھ میدانوں میں اترنا ہے تب ان شاء اللہ کامیاب ہوتے نظر آئینگے  ۔اللہ تعالی ہم سب کو اپنے حبیب کے صدقے کامیابی عطا فرمائے اور ملک کے حالات کو بہتر بنائے۔

شاہ نواز عالم ازہری
الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

اغراض و مقاصد کی تکمیل کے اہم نقاط

تحریر: آبیناز جان علیموریشس 2011کی ایک پرانی ڈائری کی ورق گردانی کرتے ہوئے مجھے پرودکٹیومسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے