جذبہ انتقام: سکون چھین لینے والی ایک خصلت

تحریر: نثاراحمد حصیر القاسمی
شیخ الحدیث معہد البنات بورہ بنڈہ و جامعۃ النور یوسف گوڑہ
سکریٹری جنرل اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹیڈیز ۔ حیدرآباد۔
[email protected]
0091-9393128156


انسان کے اندر پائے جانے والے جذبات میںسے ایک بدترین جذبہ کسی سے انتقام لینے کا ہے جس کے تحت انسان موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کب موقع ملے اور وہ دوسرے سے بدلہ لے کر اپنا دل ٹھنڈا کرلے‘ اکثر وبیشتر یہ جذبہ رکھنے والے ایسے حالات بھی پیدا کرتے ہیں جس میں انتقام لیا جاسکے، اور اپنے دل کے اندر گھر کئے ہوئے نفرت وحسد اور بغض وعناد کے شعلوں کا اسے شکار بنایا جاسکے۔
’’نضرۃ النعیم ‘‘ نامی انسائیکلو پیڈیا میں انتقام کی تعریف کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ انتقام نام ہے، نفرت وکراہت اور ناراضگی وعداوت کی آمیزش کیساتھ کسی کو سزا دینا اور اسے تکلیف پہنچانے کی ہر ممکن تدبیر کرنا۔
بلا شبہ قلب ودماغ کی سلامتی ، نفس کی پاکی و صفائی دوسروں کوزک پہنچانے کے جذبہ سے دوری اور خطا کار کو اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل میں سزا دے کر دل ٹھنڈا کرنے کے دواعی سے کنارہ کشی مومن صالح کی علامت ہے جس کا دل ہر طرح کے کھوٹ، کینہ کپٹ، بغض وحسد اور نفرت وکراہت سے پاک ہوتاہے۔ اس لئے کہ وہ جانتاہے کہ اس روئے زمین پر خود پسندی ، بدزبانی ، دل کی سختی ، مزاج کی ترشی ، دوسروں سے نفرت وکراہت ، اور بغض وعناد کے ساتھ چین وسکون کے ساتھ زندگی بسر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ان خصلتوں کی وجہ سے لوگ اس سے الفت ومحبت نہیں کرسکتے، بلکہ اس سے دور بھاگتے ہیں۔ ہر کوئی عزت ووقعت اور فلاح وکامیابی کا طالب ہوتا ہے اور انسان کو یہ چیزیں قساوت قلبی ، سختی‘ زبان کی ترشی اور بد مزاجی سے حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ اس وقت حاصل ہوتی ہے جبکہ اس کا دل صاف ہو ، اسکا نفس کدورتوں و آلائشوں سے پاک ہو، وہ دوسروں کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہو‘ دوسروں کے عذر کو قبول کرتا ہو، ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرتا ہو، غصے کو پینے کی صلاحیت رکھتا ہو، سزا دینے یا نہ دینے میں انصاف سے کام لیتا ہو، انسان کا اپنے نفس کے ساتھ بھی اور دوسروں کے ساتھ بھی سلوک کرنے میںیہی توازن بڑھتا ہو۔ اسلام کی یہی ہدایت ہے کہ وہ نفس کو ہر طرح کی برائیوںسے پاک کرے، عفو ودرگذر کو اپنا شیوہ ورہنما بنائے کیونکہ جو شخص اپنی توہین کرنے والوں ، نا انصافی کرنے والوں، برائی کرنے یا غلطی کرنے والوں سے بدلہ وانتقام لینے کی راہ پر چل پڑتاہے، وہ اندھا بہرہ ہوجاتاہے، اور اس کی زندگی سے چین وسکون چھن جاتا ہے، وہ ہر حال میں اسے زک پہنچانے کی فکر میں لگ جاتا اور زندگی کی خوشیوں کو اضطراب وبے چینی میں تبدیل کردیتاہے، جذبہ انتقام سے مغلوب ہو کر انسان سختی، جبرو تشدد ، کبرونخوت اور ظلم وجبر میں پڑ کر دوسرں کی نگاہ میںخود کو گرا دیتاہے ،لوگ اس پر انگلیاں اٹھانے لگتے اور ظلم وجبر‘ گھٹیاپن اور درندگی وحیوانیت میں اس کی مثالیں دی جانے لگتی ہیں۔
انتقام کا جذبہ بلا شبہ ایک مذموم خصلت ہے جو قساوت قلبی، مزاج کی سختی اور ضمیر کے مردہ ہوجانے کی علامت ہے، اسی لئے اسلام نے ہمیں عفو ودرگذر سے کام لینے ، غصہ کو پینے اور نرمی اختیا رکرنے کی تاکید کی ہے۔ مگر ساتھ ہی کمزوری ، بزدلی اور ذلت ورسوائی اختیار کرنے سے بھی منع کیا اور واضح کیا ہے کہ انسان کے اندر نرمی ہو، عفوودرگذر کا مادہ ہو، برا سلوک کرنے والوں سے دل کے اندر جو میل آئے اور رنجش وکدورت پیدا ہو، اس کا ازالہ افہام وتفہیم کے ذریعہ اور نصح وموعظت کے ذریعہ ہو ، اسی میں جوانمردی اور بہادری ہے۔ اس کے برعکس انتقام کمزوری کی علامت ہے کیونکہ انتقام لینے والوں اور اس کا جذبہ رکھنے والوںپر عموما شر وبرائی ، حماقت وبے وقوفی اور خواہشات نفسانی کی پیروی کا غلبہ ہوتاہے، رسول اللہ صلعم کی عظیم صفتوں اور خصلتوں میںسے ایک صفت رحمت ہے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں ارشاد فرماتاہے۔
وما ارسلناک الارحمۃ للعالمین ( الانبیاء:107)
میں نے آپ کو سارے عالم کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔
آپ کے اسی وصف رحمت وشفقت اور نرمی ورحم دلی نے آپ کو ممدوح بنایا کہ ساتوں آسمان کے اوپر سے اللہ نے بھی آپ کی اس پر تعریفیں کیں اور اس روئے زمین کے انسانوں نے بھی۔
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام رحمان ورحیم بھی ہے، جو مبالغہ کا صیغہ ہے، رحمان تو اسے کہتے ہیں جس کی رحمت عام اور ہر مخلوق کو شامل ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
قل من یکلوکم باللیل والنھار من الرحمن (الانبیاء:42)
ان سے پوچھئے کہ رحمن سے دن اور رات تمہاری حفاظت کون کرسکتا ہے۔
البتہ رحیم ایمان والوںکیساتھ خاص ہے، جیسے ارشادہے:
وکان بالمومنین رحیما (الاحزاب:43)
اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔
جنت والے جب جنت میں داخل ہوجائیںگے تو انہیں کہا جائے گا۔
سلام قولا من رب رحیم (یسین :58)
مہربان پروردگا ر کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔
اللہ کی جانب سے توبہ قبول کرنابھی اللہ کی خاص رحمت ہے کیونکہ اس طرح بندہ اپنے رب کی طرف لوٹتاہے، ارشاد ہے۔
وان اللہ ھو التواب الرحیم (التوبہ:104)
اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے اور رحمت کرنے میں کامل ہیں۔
کھانا پینا اور زندگی کی بہاروں سے لطف واندوز ہونا اللہ کی رحمت عامہ ہے اور رمضان میں ، شب قدر میں اور مختلف بابرکت ساعتوں میں عبادت کرنا اللہ کی رحمت خاصہ ہے تو اللہ کی رحمت دونوںطرح کی ہوتی ہے، رحمت عامہ اور رحمت خاصہ ، ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ورحمتی وسعت کل شئی فساکتبھا للذین یتقون ( الاعراف:156)
اور میری رحمت تمام اشیاء پر محیط ہے ، تو وہ رحمت خاص ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔
اس میں دونوں رحمتوں کا ذکر ہے، عامہ کا بھی اور خاصہ کا بھی ، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوںکو پیدا کیا اسی دن عرش پر لکھ دیا۔
’’ان رحمتی سبقت غضبی ‘‘ میری رحمت میری غضب پر مقدم ہے۔ تو اللہ رحیم ہے اور یہ صفت اللہ کی ذات کے ساتھ صفت علم وقدرت ، سماعت وبصارت اوراحسان کی طرح لازم ہے، اس کا مطلب ہے کہ اللہ ہمیشہ رحم کرنے والے ہیں، ناراض رہنے والے نہیں ہیں، اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے:
کتب علی نفسہ الرحمۃ(الانعام: 12)
اللہ نے مہربانی کرنا اپنے اوپر لازم فرما لیا ہے۔
اللہ نے اپنے اوپر غضب کو لازم نہیںکیا بلکہ رحم وکرم اور شفقت ومحبت کو لازم کیاہے، اسکے ذریعہ گویا اللہ نے انسانوںکو پیغام دیا ہے کہ ان کے اندر بھی یہ خصلت پائی جانی چاہیے ، وہ بھی رحم وکرم اور شفقت ومحبت کو اپنائیں، تشدد وسختی سے دور رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہر شئی کا اپنے علم اور صفت رحمت سے احاطہ کئے ہوئے ہیں، صفت غضب وانتقام سے نہیں، اللہ اپنے بندوں کو عذاب دینے کے بجائے رحم کرنا اور انتقام کے بجائے معاف کرنا پسند کرتے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما، واجل مسمیٰ (طہ:129)
اگر تیرے رب کی بات پہلے سے ہی مقرر شدہ اور وقت متعین کیا ہوا نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آچمٹتا۔
یہ کون سا کلمہ ہے جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتا تو عذاب کا آجانا لازم تھا؟ بلا شبہ یہ کلمہ وہی ہے جسے اوپر ذکر کیا گیاہے کہ میری رحمت میرے غضب پر مقدم ہے۔
ایک حدیث میں اللہ کے نبی صلعم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، اسی دن رحمت کے سو حصے پیدا کئے اور اس کا ہر حصہ آسمان وزمین کے درمیان کی وسعت کے بقدر ہے۔ اس سو میںسے اللہ نے ایک حصہ انسانوں کے بشمول ساری مخلوق کو عطا کئے باقی ننانوے حصے اللہ نے اپنے پاس رکھے، قیامت کے دن اس حصہ رحمت کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے ننانوے کے ساتھ ضم کردیںگے اور مخلوق پر رحمت کے پورے سو حصوں سے رحم فرمائیںگے۔ اس دن تو وہی ہلاک ہوگا جو پورے طورپر ہلاکت میں پڑا رہا، یہاں تک کہ ابلیس کو بھی امید ہوگی کہ اس پر بھی اللہ رحم وکرم کریںگے، اور وہ اللہ کی پکڑ سے بچ جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کا آغاز بھی رحمت سے کیا، آدم کی تخلیق کی شروعات بھی رحمت سے کی، قرآن کی ابتداء بھی رحمت سے ہوئی، بلکہ قرآن کی ہر سورت کا آغاز اسی رحمت سے ہوا، اسی لئے اللہ کے نبی صلعم نے ارشاد فرمایا ہے:
تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا، تو صحابہ نے عرض کیا ، کیا آپ بھی نہیں اے اللہ کے رسول؟ ۔ تو آپ صلعم نے فرمایا ، اور میں بھی نہیں ، سوائے اسکے کہ اللہ اپنی رحمت سے ہمیں ڈھانپ لیں۔
اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ جنت کا نام ہی رحمت ذکر فرمایا ہے۔
واما الذین ابیضت وجوھھم ففی رحمۃ اللہ ھم فیھا خالدون (آل عمران:107)
اور سفید چہرے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہوںگے، اور اس میں ہمیشہ رہیںگے۔
حدیث قدسی کے الفاظ ہیں۔
انت رحمتی ، ارحم بک من اشاء من عبادی
تو میری رحمت ہے ، میںتیرے ذریعہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں رحم کروں گا۔
حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص آئے گا، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے اس کی نیکیاں اور برائیاں وزن کرنے کا حکم دیںگے، تو برائی کا پلرا جھک جائے گا، وہ کہے گا کون مجھے ایک نیکی دے سکتاہے، کہ میں اس کے سہارے جنت میں داخل ہوجائوں ، وہ اپنی ماں ، بھائیوں، اور سارے دوست واحباب کے پاس جائے گا ، مگر سب نفسی نفسی کرنے والا ہوگا، کوئی ایک نیکی دینے کو تیار نہیں ہوگا، پھر اس کا گذر ایک شخص کے پاس سے ہوگا۔ اس کے پاس برائیوں اور گناہوں کا پہاڑ ہوگا، مگراس کے پاس ایک نیکی ہوگی، وہ کہے گا میں ایک نیکی سے کیا کروں گا، تو ہی لے لے، کہ میرا نہیںتو کم از کم تیرا بھلا ہوجائے، وہ خوش ہوجائے گا، اور لے کر اللہ کے پاس آئے گا، تو اللہ تعالیٰ نیکی دینے والے شخص سے کہیں گے تو مجھ سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں جبکہ میں تو ارحم الراحمین ہوں، تو دونوں جنت میں چلا جا۔
اللہ کے نبی صلعم نے کسی غزوہ کے موقع پر دیکھا کہ ایک ماں جھلسا دینے والی دھوپ میں چل رہی ہے، وہ اپنے شیر خوار بچے کو گود میں اٹھائے ہے، اور اسے دھوپ سے بچانے اور ڈھکنے کی کوشش کررہی ہے، تو اللہ کے نبی صلعم نے ارشاد فرمایا کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں ، اے اللہ کے رسول، تو آپ صلعم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر اس ماں کے اپنے بچے کے اوپر رحم کرنے سے بھی زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔
ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں آئے دن ایسے حالات وواقعات سے دوچار ہوتے ہیں جس سے ہمارے دلوں میں رنجش وکدورت ، بغض وعناد ، حسد وکینہ اورعداوت ودشمنی پیدا ہوتی ہے، اکثر وبیشتر یہ صورت حال اس قدرشدید اور جذبات اس قدر مجروح ہوتے ہیں کہ ایذا پہنچانے والے سے انتقام لینے کے ہم درپے ہوجاتے ہیں، ہمیں انتظار ہوتاہے کہ کب موقع ملے کہ ہم اس سے انتقام لیں، مگر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اگر ہم نے انتقام لے بھی لیا اور فریق مخالف کو زک پہنچا بھی دیا تو اس سے ہمیں کیا حاصل ہوا؟ کیا ہمیں اس پر فتح حاصل ہوگئی کہ ہم اس پر تالیاں بجائیں، اور اب اپنا دل ٹھنڈا کرکے میٹھی نیند سوجائیں، ہمیںدنیا وآخرت کی ساری راحت اور چین وسکون میسر آگئی، ہر گز نہیں بلکہ اس سے معاملہ اور بھی بگڑتا اور مشکلات وپریشانیوں اور الجھنوں وذہنی تنائو کا ایک نیا دور شروع ہوجاتاہے، اب وہ انتقام لینے کی تاک میں لگ جاتا اور دونوں کے درمیان انتقام در انتقام اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی دوڑ لگ جاتی ہے، کچھ اس کی تائید میں کھڑے ہوجاتے اور کچھ دوسرے کے ، اس طرح ہر فریق کے اوپر خوف وہراس اور بے اطمینانی کا بادل منڈلانے لگتاہے، رات کی نیند اڑ جاتی اور دن کا سکون غارت ہوجاتاہے، اسی لئے اسلام نے اس سے سختی سے منع کیاہے، رسول اللہ صلعم کی زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے، اللہ کے نبی صلعم حدیبیہ میں ایسی شرطیں بھی قبول فرما لیں جو بظاہر ضعف وکمزوری اور بزدلی نظر آرہی تھی ، مگر اسی کو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین سے تعبیر کیا، مکہ جب فتح ہوا تو یہاں والوں کی ہزار جفا اور مظالم وشقاوت قلبی اور ملک بدری کے باوجود آپ صلعم نے انتقام کے بارے میں سوچا بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس یہ اعلان فرمایا، اذھبوا وانتم الطلقاء ، جائیں آپ سب آزاد ہیں۔
جس شخص کا دل جذبہ انتقام سے لبریز ہوتا ہے وہ ہمیشہ اپنی نفسانی خواہشات کا اسیر ہوتا اور اسی زاویہ سے سوچتا ہے ، زمانہ گذرتا جاتا مگر اس کی سوچ اور انداز فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، ایک مدت کے بعد وہ خود کو اس طرح پاتا ہے کہ عمر کا ایک بڑا حصہ گذر گیا اور اسے دوسروںسے سوائے نفرت وکراہیت ، عداوت ودشمنی اور کینہ وکدورت کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے:
یا ایھا الذین آمنوا کونوا قوامین للہ شھداء بالقسط (المائدہ:8)
اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہوجائو، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو۔
اے کاش کہ ہم اس خطرناک بیماری اور جذبہ انتقام سے پیچھا چھڑاتے ، اس کے انجام بد پر غور کرتے، انتقام لینے کے بارے میں سوچنے اور غیض وغضب کے شعلوں سے اپنے آپ کو بچاتے ، اپنے دل میںوسعت پیدا کرتے ، عفو و درگذر اور چشم پوشی کو اپنا شیوہ بناتے ، یہ دنیا پائیدار نہیں بلکہ یہاں ہر کوئی مسافر ہے،یہاں کوئی ہمیشہ رہنے والا نہیں بلکہ آج نہیں تو کل ہر کسی کو داغ مفارقت دینا اور اپنے خالق ومالک سے جا کر ملنا ہے۔ پھر ایسی چند روزہ زندگی کیلئے باہمی عداوت ودشمنی کیوں مول لی جائے اور انتقام کے پیچھے کیوں سر کھپایا جائے۔
اس دنیا میں اصل تو یہ ہے کہ ہم اپنے اعمال کو صرف اور صرف اللہ کی رضا وخوشنودی کے لئے بنائیں،اگر کوئی ہمارے ساتھ زیادتی کرتا، ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا، اور اپنے اعمال اور حرکتوں سے ہمارے دل میں انتقام کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے تو ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اسے نظر اندازکریں، کیونکہ انتقام کے بارے میں سوچنے میںوقت ضائع کرنے کا جو نقصان ہے وہ ناقابل تلافی ہے۔ ہمیں اس کے بارے میں رسول اللہ صلعم کے اسوئہ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جن کی ناراضگی اور خوشی بھی اللہ کے واسطے ہوتی تھی، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، کہ رسول اللہ صلعم نے اپنے دست مبارک سے کبھی کسی کو نہیں مارا، نہ بیوی کو، نہ خادم کو نہ کسی اور کو سوائے اس کے کہ آپ نے دین کی سربلندی کے لئے جہاد کیا۔ آپ کی ذات کے ساتھ کچھ بھی کیا گیا، آپ نے اپنی ذات کے لئے انتقام نہیں لیا۔ ہاں اللہ کے محارم میں سے کسی حرمت والی چیز کو پامال کیا گیا تو آپ نے اللہ عز وجل کے لئے اس کا انتقام ضرور لیا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ اگرکسی نے آپ کی ذات پر زیادتی کی ، گردن مروڑا، گلے میں پھندا ڈالا، یا اس طرح کی حرکتیں کیں تو آپ نے نظر انداز کیا، اور اس سے انتقام نہیں لیا، البتہ جب منصب نبوت ورسالت کی توہین کی گئی تو آپ نے حدود جاری کرتے ہوئے اسے سزا دی ، جیسے قبیلہ عکل وعرینہ والوں کو یا ام قرفہ کو یا عبداللہ بن سعد ابو سرح کو یا عبداللہ بن خطل کو یا حویرث بن نفیل کو یا مقیس بن جبابہ کو ، ان سبھوںکو کسی انتقام میں قتل نہیں کیا گیا بلکہ ارتداد واہانت رسالت ونبوت کی وجہ سے حداً قتل کیا گیا ہے۔
اللہ کے بہت سے اسمائے حسنیٰ ہیں ، ان میں سے ایک صفت منتقم بھی ہے، جو درحقیقت انتقام نہیں بلکہ عدل وانصاف کے تقاضے کے مطابق جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو جرم کی سزا دینا ہے۔ اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو ظلم وجور کا بازار گرم کرنیوالا اور زمین میں فساد وبگاڑ اور بد امنی پھیلانے والا اور بنی نوع انسان کی زندگی کو خطرہ میں ڈالنے والا اور ان کی آزادی سلب کرکے انہیں جانور بنانے والا اور خدا کی بندگی کی بجائے بندوں کی بندگی پرمجبور کرنے والا ہوگا، اللہ اسے ضرور سزادیںگے جو درحقیقت مصالح ومفاسد کے درمیان توازن پیدا کرنے کیلئے ہے۔ تاکہ لوگ اللہ کے محارم کی پامالی سے بچیں، اسی انتقام یا سزا کے لئے اللہ تعالیٰ نے حدود وقصاص اور تعزیر وعقوبات کو مشروع کیا ہے، تاکہ دنیا کا نظام بحسن وخوبی چلتا رہے، اس میں بگاڑ پیدا نہ ہو، اسی وجہ سے اس میں نرمی برتنے سے بھی منع کیا گیا، ارشاد ہے۔
ولا تاخذکم بھما رافۃ فی دین اللہ (النور:2)
ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیے۔
اے کاش کہ ہم جذبہ انتقام سے پیچھا چھڑاتے اور پرسکون زندگی جینے کیلئے عفوودرگذر کو اپنا شعار بناتے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

زندگی کا سفر

تحریر: ابوالمتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان بچہ پیدا ہوتا ہے ابتداء ماں کی گود میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے