دین اسلام انسانوں کے ساتھ محبت کا درس دیتا ہے

تحریر: محمد حشیم الدین رضا نعمانی قادری

یہ دین ہمیں انسانوں کے ساتھ پیار و محبت کا درس دیتا ہے، صحابہ کرا م رضوان اللہ تعلی علیہم اجمعین اپنی ضرورتوں پر دوسروں کی ضرورتوں کو تر جیح دیتے تھے
انسا نوں سے پیار و محبت اور ضرورت مند انسانوں کی مددکے عمل کو ہر دین اور مذہب میں تحسین کی نظر سے دیکھاجا تا ہے لیکن دین اسلام نے خد متِ انسا نیت کو بہترین اخلا ق اور عظیم عبا دت قرار دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسا نوں کو یکساں صلا حیتوں اور اوصاف سے نہیں نوازا بلکہ اُن کے درمیان فرق وتفاوت رکھا ہے اور یہی فرق و تفاوت اس کا ئنات رنگ وبو کا حسن و جما ل ہے ۔ وہ رب چاہتا تو ہر ایک کو خوبصوت ،مال دار،اور صحت یاب پیدا کر دیتا لیکن یہ یک رنگی تواس کی شانِ خلاقی کے خلاف ہوتی اور جس امتحان کی خاطر انسان کو پیدا کیا ہے، شاید اس امتحان کا مقصد بھی فوت ہو جاتا ۔اُس علیم و حکیم رب نے جس کو بہت کچھ دیا ہے اُس کا بھی امتحان ہے اور جسے محروم رکھا ہے اس کا بھی امتحان ہے ۔وہ رب اس بات کو پسند کرتا ہے کہ معا شرے کے ضرورت مند اور مستحق افراد کی مدداُن کے وہ بھا ئی بہن کریں جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے تاکہ انسانوں کے درمیان باہمی الفت ومحبت کے رشتے بھی استوار ہوں اور دینے والوں کو اللہ کی رضا اور گناہوں کی بخشش بھی حاصل ہو ۔
مسلم شریف کی روایت ہے’’مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور وہ شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے جوا س کے کنبے کے لئے زیادہ مفید ہو۔‘ سبحان اللہ اس رب کو اپنے بندوں سے اس قدر محبت ہے کہ وہ ان کو اپنا کنبہ قرار دیتا ہے حالا نکہ وہ سبوح اور قدوس ذات ہے، اسے کسی کنبے کی ضرورت اور احتیاج ہر گز نہیں ۔ انسانیت کی خد مت کے بہت سے طریقے ہیں،بیوائوں اور یتیموں کی مدد،مسافروں محتاجوں اور فقراء اور مساکین سےہمدردی ،بیماروں،معذوروں،
قیدیوں اور مصیبت زدگان سے تعاون یہ سب خدمت خلق کے کام ہیں اور وسیع تر تنا ظرمیں ا ن سب سے بڑھ کر انسانوں سے ہمدردی یہ ہے کہ ان کو دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے ذریعے دوزخ کی آگ سے بچایا جا ئے اور رب کی رضا اورصراط مستقیم کی طرف ان کو دعوت دی جا ئے ۔ لیکن اس مضمون میں ہم صرف پہلی قسم کے متعلق ہی گزارشات ضبطِ تحریر میں لائیں گےصحیح الجامع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا، لوگوں میں سے اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جو انسانوں لئے زیادہ نفع بخش ہوں،اعمال میں سے اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جن سے مسلمانوں کو خوشیاں ملیں، یا ان سے تکلیف دور ہو۔یاان سے قرض کی ادائیگی ہو یا ان سے بھوکوں کی بھوک دور ہو ۔ میرے نزدیک کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے کی سعی ایک ماہ مسجد میں اعتکاف بیٹھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اورجس نے غصہ بُجھایااللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کر لی اور جس نے غصہ پی لیا اگر اس نے چا ہا کہ اللہ تعالیٰ اس کی مشکلا ت دور کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی مشکلا ت دور کردے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کا دل اتنا بھر دیگا کہ وہ قیا مت کے دن را ضی ہو جائےگا، اس حدیث میں کسی
ضرور ت مند انسان کی حاجت کو پورا کرنے
پر کتنے ہی انعامات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ بے شک بد خُلقی اعمال کو اس طرح برباد کر دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو برباد کر دیتا ہےجو اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے چلا یہاں تک کہ وہ ضرورت پوری ہو جائے اللہ تعالیٰ اس دن اسے ثابت قدم رکھے گا جس دن قدم ڈ گمگا رہے
ہونگے ۔ ایک دن مجلس میں نبی رحمت نے صحابہ کرام سے سوالات کئے ۔آپنے پوچھا:آج کس نے جنازے میں شرکت کی ؟ ّسیدناابو بکررضی اللہ عنہ نے عرض کی :میں نے ۔آپ نے فرمایا :آج کس نے بھوکے کو کھاناکھلا یا ؟ سیدناابو بکر نے عرض کی : میں نے ۔ آپنے پھر سوال کیا: آج کس نے اللہ کی رضا کے لئے روزہ رکھا ؟ سیدناابو بکر نے عرض کی : میں نے ۔ آپنے ایک بارپھر پوچھا: آج کس نے بیما ر کی عیادت کی؟ سیدناابوبکر نے فرمایا میں نے ۔ نبی نے فرمایا جس آدمی میں یہ 4 باتیں جمع ہو جائیں وہ جنتی ہے ۔
صحابہ کرام نیکیوں کے اس قدر حریص تھے کہ ہمیشہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں رہتے تھے ۔ حضرت عمر فرماتے ہیں ایک دن میں مد ینے کے مضافا ت میں ایک جھونپڑی کے قریب پہنچا تو اس میں تنہا ایک بڑ ھیا بستر پر پڑی نظرآئی اور جھونپڑی صاف ستھری اور ہر چیز قر ینے سے رکھی ہو ئی تھی، میں نے بڑ ھیا سے پو چھا: اماں آپ کے یہ کا م کو ن کرتا ہے ؟ عر ض کیا ایک شخص فجر سے بھی پہلے آتا ہے اور یہ سا رے کا م کر کے چلا جا تا ہے۔ حضرت عمر کو تجسس ہواکہ وہ کو ن شخص ہے ۔ دوسرے دن صبح آئے تو وہ کا م کر کے چلا گیا تھا ۔ پھر آئے تو وہ گھر کی صفائی کر رہے تھے دیکھا تو ابو بکر تھے ۔ سید القوم خادم ھم ۔یہ تھے قوم کے حقیقی رہنمااور خادم ۔حضرت سیدناابو بکر کئی گھرا نوں کی مستقل کفالت بھی کرتے تھے اور محلے میں کئی گھروں کی بکریوں کا دودھ بھی دھوتے تھے ۔ خلیفہ بنے تو ایک دن محلے سے گزرتے ہوئے ایک لڑکی نے دیکھا تو کہنے لگی ہائے!! آپ تو مسلمانوں کے خلیفہ بن گئے ہیں۔ اب ہماری بکر یو ں کا دودھ کون دھوئے گا ؟آپ نے فرمایا:ــ مجھے تمہاری بکریوں کا دودھ دھونے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی (گویا کہ میں خلیفہ ہوتے ہوئے بھی یہ کام کر وں گا، مؤمنین کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ ’’وہ اللہ تعا لیٰ کی محبت کی وجہ سے مسکین ، یتیم اور قیدی کو کھا نا کھلا تے ہیں۔ یتیم کی کفا لت کر نے والے کو نبی کی جنت کی رفاقت نصیب ہو گی ۔یتیموں کو دھتکارنااور مسکین کو کھا نا نہ کھلانا مشرکین کا عمل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں جا بجا اس کا ذکر آیا ہے، ایک حدیث میں بڑے عجیب انداز میں بھوکے ، پیاسے اور بیمارکا ذکر آیا ہے۔امام مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا قیا مت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے!میں بیمارہوا تھا تو تُونے میری عیادت نہیں کی ۔بندہ کہے گا: میرے اللہ! تُوتو رب العالمین ہے میں کیسے تیری عیادت کرتا؟ اللہ فرمائے گا :میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو تُو نے اس کی عیادت نہیں کی۔ اگر تُو اس کی مزاج پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھے کھانے کو دیا تھا لیکن میں بھو کا تھا تُو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا ۔بندہ کہے گا :پرور دگار! تُو تو رب العالمین ہے میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا ؟ اللہ فرمائے گا :میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، تُو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔ اگر تُواسے کھا نا کھلاتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا، اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھے پا نی دیا لیکن میں پیاسا تھا، تُو نے مجھے پانی نہیں پلایا ۔بندہ کہے گا: تُو رب العالمین ہے میں کیسے تجھے پانی پلاتا ؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا :میرا فلاں بندہ پیاسا تھا، اگر تُواسے پانی پلا تا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔
کتنے ہی حسین پیرائے میں خدمت خلق کے کام کی عظمت کا احساس دلا یا گیا ہے تاکہ ہم بھی نیکی کے ان کا موں کی طرف راغب ہوں ۔یتیموں اور بیوائوں،فقراء اور مساکین سے اللہ تعالیٰ کو کس قدر محبت ہے اور کن کن طر یقوں سے اللہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ۔دیکھئے جتنی عبا دات اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کی ہیں بالخصوص روزہ ،حج اورعمرہ اورشرعی قسم تو ڑنے کا کفارہ وغیرہ ۔ان عبادات میں کسی کمی یا کوتاہی کاازالہ اس جیسی کسی عبادت کے بجا ئے فقراء اورمسا کین کی خدمت سے کیا جا تا ہے، والدین کی خدمت تو بدرجہ اولیٰ جنت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ اگر ہم والدین کی خدمت اوردیکھ بھال کریں تو جنت ملے گی ان کے دل دکھا ئیں اور ایذا دیں تو جہنم کی سزا ملے گی، حضرت عبداللہ بن مبا رک رحمہ اللہ سے کسی نے اپنی پریشا نی کا ذکر کیا کہ 7 سال سے بیما ر ہوں ہر طرح کا علاج کرایا کوئی فرق نہیں پڑ تا ۔ آپؒ نے فر ما یا جا ؤایسی جگہ تلا ش کرو جہاں لو گ پا نی کی تنگی میں مبتلا ہوں وہاں کنواں کھودواؤ، مجھے امید ہے وہاں چشمے سے پانی جا ری ہو اور تمہاری بیما ری ٹھیک ہو جائے ۔ اس نے ایسا ہی کیا اور صحت یا ب ہو گیا۔خدمت انسانیت میں مسلم اور غیر مسلم میں فرق نہیں ۔ ہاں مسلمان سے ہمدردی زیادہ ثواب کا باعث ہے لیکن اگر کوئی غیر مسلم بھی ہمدردی اور مدد کا مستحق ہو تو اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ وہ بھی اللہ کابندہ ہے ۔ ،دیں تا کہ اللہ کی رضا حاصل ہو ۔
سبحان اللہ سبحان اللہ یہ تحریک جو چلائی گئی ہے جس کے بانی و سربراہ حضرت علامہ و مولانا مفتی نظام احمدصاحب قبلہ ہیں ان کی عمر میں عمل میں رزق میں اللہ تعالی بےحساب برکت عطا فرمائے آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

عیدقرباں اور غریب

تحریر : محمد خالد رضا مرکزی، سیتامڑھی بہار میری معلومات کے مطابق دنیامیں بارہ اَرب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے