مردِ آہن حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی علیہ الرحمہ: مبارک حسین مصباحی

وہی چراغ بجھا جس کی لَو قیامت تھی


از: مولانا مبارک حسین مصباحی، ایڈیٹر: ماہ نامہ اشرفیہ و استاذ: جامعہ اشرفیہ مبارک پور

۲۰؍ اکتوبر ۲۰ ۲۰ء منگل کی شب میں ۹؍ بجے کے قریب حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی ہولی فیملی ہاسپیٹل دہلی میں وصال فرما گئے۔ 25دسمبر 2020 کو سانس لینے میں دقت کی وجہ سے ایڈمٹ ہوئے۔ آپ کے ساتھ آپ کی اہلیہ محترمہ بھی ایڈمٹ ہوئیں مگر وہ تو دس دن کے بعد صحت مند ہو گئیں، آپ مسلسل آئی سی یو میں زیرِ علاج رہے۔ اسی دوران آپ کو نمونیہ کی شکایت بھی ہو گئی، آخر میں آپ کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور آپ دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ جس نے سنا دم بخود رہ گیا، ہمیں بھی شدید افسوس ہوا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پڑھا اور چند سورتیں تلاوت کر کے انھیں ایصال ثواب کیا، حالاں کہ اس سے قبل ہم لوگ مسلسل صحت یابی کی دعائیں کر رہے تھے۔ بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اہلیہ محترمہ، اولاد اور اہلِ خانہ کو صبر و شکر کی توفیق سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔

رضوی کتاب گھر دہلی:
محبِ گرامی وقار حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی کی ولادت باسعادت صالح پور بستی میں ہوئی۔ حفظ و قراءت سے فراغت کے بعد آپ بھیونڈی، مہاراشٹر تشریف لے گئے۔ حافظ صاحب کسی دولت مند خاندان کے فرد نہیں تھے، مگر عزم و ہمت کی دولت خوب پائی تھی، عزیمت و استقامت کے کوہِ گراں تھے، جب آپ کسی بڑے کام کا منصوبہ بناتےتو آپ کی نظر جیب پر نہیں بلکہ ہمیشہ منزل مقصود پر رہتی تھی۔ اسی جذبۂ جنوں خیز سے آپ بڑے سے بڑا کام کرلیتے تھے، فکر و تدبر کے بادشاہ تھے، بر وقت رقم کا انتظام کیسے کرنا ہے، اپنی دور اندیشی سے بیٹھے بٹھائے بڑی سے بڑی رقمیں حاصل کر لیتے تھے، آپ حکمتِ عملی سے اپنے سارے کام بآسانی پایۂ تکمیل کو پہنچا دیتے تھے۔
ایک بار ہم لوگوں سے دہلی میں اپنے ایک مراد آباد کے سفر کی روداد بیان فرمائی کہ ہم مراد آباد کے لیے نکل گئے، بس میں جب کنڈیکٹر نے ٹکٹ کاٹنا شروع کیا تو ہم نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، مگر افسوس جیب خالی تھی۔ آپ اپنے چہرے بشرے سے بھی خوش حال نظر آتے تھے، ہنس مکھ مزاج کے مردِ آہن تھے ، آپ کی پیشانی پر غم و افسوس کی کوئی لکیر نہیں ابھری بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ کہا مراد آباد پہنچتے ہی کرایہ ادا کر دوں گا، ڈرائیور نے بھی خلافِ توقع آپ پر اعتماد کر لیا۔ مراد آباد میں جیسے ہی اترے رکشے والے دوڑے ۔ آپ نے ایک رکشے والے سے کہا ذرا اتنے روپے دے دو ہم ابھی آپ کو دے دیں گے، رکشہ والے نے روپے آپ کو دیے ، آپ نے ڈرائیور کو کرایہ ادا کیا اور رکشہ میں بیٹھ کر مراد آباد کے کسی شناسا کتب خانے پر پہنچے اور دوکان دار سے رقم لے کر رکشے والے کو ساری رقم ادا کر دی۔ یہ تھی آپ کی عزیمت اور حوصلہ مندی ۔ تدبر و ذہانت میں آپ اپنی مثال آپ تھے۔
1992یا 93 کی بات ہے ، ہم کسی پروگرام میں بھیونڈی پہنچے، ایک راہ سے گزرتے ہوئے ہمیں غیبی نگر بھیونڈی میں رضوی کتاب گھر بھی نظر آگیا۔فور وہیلر سائڈ سے لگوائی، مختصر سے تعارف کے بعد بڑے تپاک سے لیا، خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی ہم نے المجمع المصباحی ، مبارک پور سے دو ایک کتابیں شائع کی تھیں، ان کے تعلق سے بھی حافظ صاحب سے اظہارِ خیال کیا اور دیگر اہم باتیں بھی ہوئیں، یہ آپ سے ہماری پہلی ملاقات تھی۔
رضوی کتاب گھر بھیونڈی ہی میں مشہور ہو چکا تھا، بڑی اہم کتابیں آپ نے شائع فرمائیں، بھیونڈی میں باقی رکھتے ہوئے مٹیا محل، جامع مسجد دہلی-6میں قائم کیا۔ بعد میں ایک دوکان نیچے حاصل کی، مزید قریب میں متعدد گوداموں کو حاصل کیا، ذاکر نگر دہلی میں ایک انتہائی بیش قیمت رہائش گاہ خریدی۔ آپ بلند اخلاق تھے ملنے جلنے میں بھی اپنی مثال تھے، ہم مٹیا محل دہلی پہنچتے تو حافظ صاحب سے ملاقات کرتے، ان کی چائے وغیرہ ضرور پیتے۔ کئی بار اسی علاقے کے کسی ہوٹل میں رمضان المبارک میں قیام کرتے تو متعدد بار آپ نے افطار کی دعوت پیش فرمائی۔ افطار میں کثیر سامان اکل و شرب ہوتے۔ حافظ صاحب عرس عزیزی میں مبارک پور ضرور تشریف لاتے، متعدد بار ہماری قیام گاہ پر آرام فرمایا ہم بھی اپنی معمولی وسعت کے مطابق کھلانے پلانے کا شرف حاصل کرتے۔آپ نہ صرف خود بڑے ناشر و تاجرہوئے بلکہ اپنے برادران اور اعزہ و اقارب کو بھی اسی کام سے جوڑ دیا۔ آپ نے تفاسیر، احادیث، سیرت ،تصوف اور اسلامیات کے کثیر موضوعات پر چھوٹی بڑی سیکڑوں کتابیں شائع فرمائیں۔
محبِ گرامی حضرت مولانا سلمان رضا فریدیؔ صدیقی مسقط عمان نے کیا خوب ترجمانی کی ہے؂
رحم و اخلاص و مروت کی ضیا قمر الدین اپنے کردار کا اک نقشِ عیاں چھوڑ گئے
کر کے وہ نشر و اشاعت کے ذریعے خدمت باغِ ملت کے لیے بحرِ رواں چھوڑ گئے
ماہ نامہ کنز الایمان اردو اور ہندی دہلی:
نومبر 1988ء سے آپ نے ماہ نامہ کنز الایمان دہلی اردو اور ہندی میں جاری فرمایا، جو اب تک [کرونا کی مہاماری کے چند ماہ بند رہا] جاری ہے۔ 2021ء سے پھر اشاعت جاری ہو گئی ہے۔ محبِ مکرم حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی اس کے اول روز سے ایڈیٹر ہیں۔ چند برس بزرگ قلم کار حضرت علامہ یٰسٓ اختر مصباحی دامت برکاتہم القدسیہ اس کے مدیر اعلیٰ رہے۔ آپ کے بعد نوجوان فاضلِ اشرفیہ محبِ گرامی وقار حضرت مولانا محمد ظفر الدین برکاتی دام ظلہٗ العالی اس کے مدیرِ مسئول ہیں۔ مولانا جدید و قدیم صلاحیتوں کے حامل ہیں، جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے کامیاب اسٹوڈینٹ ہیں، باشعور ہیں اور لکھنے پڑھنے کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں، عہدِ حاضر میں دو زبانوں میں الگ الگ رسالے جاری رکھنا بڑی بلند ہمتی کا کام ہے۔ بلا شبہ یہ رسالہ دعوت و تبلیغ اور فکر و فن کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس میں ہمارے حافظ جی کا کلیدی کردار ہے، اسی کے ساتھ یہ رضوی کتاب گھر کا ایک نام ور ترجمان ہے۔ اس رسالے کی مسلسل اشاعت کو عزیمت و استقامت کے پیکر حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی کی جسارت اور کرامت دونوں کہہ سکتے ہیں۔
(1)-شارحِ بخاری نمبر: ماہ نامہ کنز الایمان دہلی سن 2000 میں ضخیم شارحِ بخاری نائب مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی قدس سرہ سابق صدر شعبۂ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی علمی شخصیت و فکر پر جاری فرمایا، اس نمبر میں آپ کی حیات، خدمات، فقیہانہ بصیرت اور محدثانہ عزیمت پر وقیع مضامین ہیں۔
(2)-خطیب البراہین نمبر، میء2013 ء :66صفحات پر مشتمل یہ ایک وقیع نمبر ہے، بفضلہٖ تعالیٰ اس میں شکستہ لفظوں میں ایک تحریر ہماری بھی ہے، خطیب البراہین حضرت علامہ صوفی محمد نظام الدین قادری برکاتی محدث بستوی قدس سرہ العزیز ایک صوفیِ باصفا اور مرشدِ کامل کی حیثیت سے محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے نام ور فاضل تھے۔ ہمارے کرم فرما ماہ نامہ کنز الایمان دہلی کے ایڈیٹر حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی نے ایک صفحہ کا ابتدائیہ تحریر فرمایا ہے۔ اس تحریر سے حضرت خطیب البراہین قدس سرہ کے ساتھ خود قلم کار کی شخصیت کے مخفی پہلو بھی اجاگر ہو گئے ہیں۔ جن دنوں حضور خطیب البراہین دار العلوم تنویر الاسلام امر ڈوبھا ضلع بستی میں شیخ الحدیث تھے، قلم کار ان دنوں دو برس بحیثیت طالب علم اسی کے ہاسٹل میں مقیم تھے۔ واضح رہے کہ یہ خصوصی شمارہ حضور صوفی صاحب کے عرسِ چہلم پر شائع ہوا تھا۔ چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔ مضمون کا عنوان یہ مصرع ہے: ”عالموں کے رہنما ہیں حضرت صوفی نظام الدین“
پہلا اقتباس: حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی تحریر فرماتے ہیں:
”1970ء میں ہم دارالعلوم تنویر الاسلام امر ڈوبھا، ضلع بستی (موجودہ سنت کبیر گر ) یو پی میں شعبۂ حفظ و قراءت کے طالب علم تھے اور حضرت وہاں شیخ الحدیث تھے۔ وہ ایک مثالی اور شفیق استاذ تھے، جو حضرات ان سے قریب رہے ہیں ، وہ اس حقیقت سے خوب واقف ہیں اور سبھی اس بات کا اعلانیہ اعتراف بھی کرتے ہیں۔ ہم نے آج تک صوفی صاحب کی ذات اور شخصیت یا کردار کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں سنی۔ یہ ان کی سب کے دل میں یکساں مقبولیت کی دلیل ہے۔ اس سے بڑی بات اِس دور کے لحاظ سے یہ ہے کہ صوفی صاحب ایک نہایت پارسا عالمِ باعمل اور پابندِ شرع نمازی مفتی پیرِ طریقت تھے۔ یہ سب خوبیاں شایدہی کسی عالم دین میں جلدی نظر آتی ہیں ، اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ صوفی صاحب اس دور میں سبھی عالموں کے رہ نما ہیں اور تمام اساتذۂ مدارس کوان کی تقلید و تائید کرنا چاہیے۔“
اس تحریر سے معلوم ہوا کہ حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی 1970 اور 1971 میں دار العلوم تدریس الاسلام امر ڈوبھا ضلع بستی میں شعبۂ حفظ وقراءت میں زیرِ تعلیم رہے۔ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت صوفی صاحب میں بہت سی خوبیاں تھیں، اس لیے وہ فیصلہ کن الفاظ میں لکھتے ہیں کہ ”صوفی صاحب اس دور میں سبھی عالموں کے رہ نما ہیں اور تمام اساتذۂ مدارس کوان کی تقلید و تائید کرنا چاہیے۔“
دوسرا اقتباس : حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی لکھتے ہیں:
”ہم نے اپنے دورِ طالب علمی میں اپنی آنکھوں سے مسلسل دوسال دیکھا ہے کہ صبح میں فجر کی نماز کے لیے سب سے پہلے اٹھتے اور تمام اساتذہ وطلبہ کو جگاتے پھر وضو کر کے مسجد میں جانے سے پہلے بھی سب کو جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی تلقین کرتے۔
صوفی صاحب کے ہم عصر اساتذہ شاید ہماری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ صوفی صاحب نے کبھی طلبہ پر نماز کے لیے سختی نہیں کی بلکہ ان کے کردار وعمل کو دیکھ کر ہی طلبہ نماز کی پابندی کرنے میں دل چسپی لینےلگتے تھے جب کہ بہت سے مدارس میں اس کے لیے سختی کرنی پڑتی ہے۔
وجہ ظاہر ہے کہ جب ظاہروباطن اور قول وعمل میں یکسانیت ہوگی تو باتیں بھی مؤثر ہوں گی اور کردار و عمل بھی زبان کا کام کریں گے۔ یہی حال صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی باعمل زندگی کا ہے۔“
حضرت حافظ صاحب نے نکتہ آفرینی فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ حضرت صوفی صاحب قدس سرہ نے اپنے عہد میں نماز کے لیے مسلسل تلقین فرمائی مگر کسی طالب علم کو مارا نہیں بلکہ اپنی تقویٰ شعار شخصیت کو اس انداز سے پیش فرمایا جس سے متاثر ہو کر طالبانِ علومِ نبویہ خوف سے نہیں بلکہ اپنے ذوق و شوق سے نمازی بن جاتے تھے۔
تیسرا اقتباس: حضرت حافظ صاحب علیہ الرحمہ اپنے تعلقِ خاطر کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”دوسرے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں کی طرح دہلی اور ممبئی میں بھی آپ کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد ہے۔ فراغت کے بعد جب ہم بھیونڈی گئے تو ہماری دعوت پر دس محرم الحرام کی سالانہ محفل میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے 1980ء تک حضرت برابر تشریف لاتے رہے اوربھیونڈی میں ہمارے غریب خانے پربھی بارہا تشریف لا چکے ہیں۔
اور پھر دہلی میں جب قیام ہوا تو حضرت جب بھی دہلی میں تشریف لاتے تو ماہنامہ کنزالایمان ورضوی کتاب گھر کے دفتر میں ضرور تشریف لاتے اور جو بھی نئی کتاب دیکھتے خرید کر لے جاتے اور اکثردریافت کرتے کہ اب کون سی نئی کتاب آرہی ہے؟“
حضرت حافظ صاحب حفظ و قراءت سے فراغت کے بعد بھیونڈی تشریف لے گئے، ممبئی اور بھیونڈی وغیرہ میں بھی آپ کے مردیدین اور متوسلین کثیر تعداد میں تھے۔ حافظ صاحب 10محرم الحرام میں خطاب کے لیے مدعو فرماتے اور آپ مسلسل تشریف لے جاتے۔ یہ سلسلہ 1980ء تک جاری رہا۔ بھیونڈی میں بھی حضرت صوفی صاحب حضرت حافظ صاحب کی قیام گاہ پر تشریف لاتے رہے۔ اسی طرح جب رضوی کتاب گھر دہلی میں قائم ہو گیا تو آپ دہلی پہنچتے تو رضوی کتاب گھر اور ماہ نامہ کنز الایمان دہلی کے آفس ضرور تشریف لاتے۔ حافظ صاحب لکھتے ہیں:” جو بھی نئی کتاب دیکھتے خرید کر لے جاتے اور اکثردریافت کرتے کہ اب کون سی نئی کتاب آرہی ہے ؟“حضرت صوفی صاحب قدس سرہ کا یہ عمل اپنے معاصرین کے لیے قابلِ تقلید ہے ورنہ عام طور پر بڑے علماے کرام کتابیں خریدنے کو اپنی توہین تصور کرتے ہیں انھیں تو بس ”مفت مل جائے تو برا کیا ہے“ پر پابندی سے عمل کرنا ہے۔
(3)-خصوصی شمارہ نذرِ اُسید: 66 صفحات پر مشتمل یہ وقیع اور علمی شمارہ ہے۔ ماہ نامہ کنز الایمان دہلی رجب/شعبان 1435ھ/مئی 2014ء نے شہیدِ بغداد شیخ اسید الحق قادری کی نذر ہے۔ 4مارچ 2014ء میں آپ بغداد مقدس میں دہشت گردی کا شکار ہو گئے۔ خانقاہ عالیہ قادریہ بدایوں شریف کے باصلاحیت فردِ فرید تھے۔ آپ نے جس تیزی کے ساتھ تدریس، تصنیف اور تحقیق و ترتیب کے امور انجام دیے اس کی اپنی ایک منفرد علمی تاریخ ہے۔ کم از کم مجھے نہیں لگتا کہ کسی خانقاہ میں اتنا ہونہار کوئی شہزادہ ہو۔ اس میں ہماری تحریر بعنوان ”وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی“ شامل ہے۔
تاج الشریعہ نمبر کنز الایمان دہلی نے 220 صفحات پر مشتمل وقیع و ضخیم نمبر حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری قدس سرہ کی شخصیت اور ان کے علمی افکار اور فقہی خدمات پر جاری کیا۔
(5)-مشائخِ دہلی نمبر : یہ عظیم و ضخیم نمبر سب سے ضخیم ہے، جو تیاری کے مراحل سے گزر چکا ہے۔ اشاعت کا بار بار اعلان ہوا مگر افسوس بعض وجوہات کے پیشِ نظر اس کی اشاعت نہیں ہو سکی۔ اللہ تعالیٰ مشائخِ دہلی کے طفیل اس کی اشاعت کا انتظام فرما دے گا۔
محبِ گرامی وقار حضرت حافظ محمد قمر الدین رضوی بلا شبہ مردِ آہن تھے۔ متوسط گٹھیلا بدن، نورانی چہرا، حساس نگاہیں، ہنستے مسکراتے لب، مسلسل متحرک و فعال ، سوچنے سے زیادہ کرتے تھے یا کرنے سے زیادہ سوچتے تھے- ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے۔ بہر حال وہ کام کی مشین تھے۔ بڑے سے بڑا کام انجام دینا ان کے لیے آسان ہوتا تھا۔ ایک بار متعدد معاصرین بیٹھے ہوئے تھے، گفتگو کے دوران کسی نے فرمایا، اگر لال قلعہ کی فروختگی کی بات سامنے آجائے توہمارے حافظ صاحب اس کے خریداروں میں بھی شامل ہو جائیں گے۔ یہ بات تو انھوں نے بطور مزاح فرمائی تھی، مگر سچائی یہ ہے کہ جس طرح انھوں نے آگے بڑھ کر دکھایا، دوسرے کتب خانے والوں کو ان سے عبرت حاصل کرنا چاہیے، آپ سالانہ رضا اسلامک ڈائری، رضوی جنتری اور مختلف انداز کے اسلامی کلینڈر بھی شائع فرماتے تھے۔ان تمام چیزوں کو جس ڈھنگ سے آپ وافر مقدار میں فروخت فرماتے تھے یہ آپ ہی کے دماغ کا کمال تھا۔ آپ نے 18جلدوں میں تفسیر نعیمی ، 15 جلدوں میں تفسیر روح البیان اور دو جلدوں میں مکمل قرآن کی تفسیر مظہر القرآن شائع فرمائی، اسی طرح دیگر اہم کتب بھی شائع فرماتے رہے ، مسئلہ اخراجات کا نہیں بس ان کی سمجھ میں آنے کا ہوتا تھا۔ آپ نہایت چاق و چوبند اور پھرتیلے تھے۔ ابھی عمر ہی کیاتھی، بالکل چلتے پھرتے لاکھوں شیدائیوں کو چھوڑ کر چل بسے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوۡنَ . )سورہ اعراف، آیت:34)
ترجمہ: اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہےتو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔ (کنز الایمان)
ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما، اپنے حبیب شفیعِ محشر ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ ان کا مقدر بنا، پس ماندگان میں محترمہ اہلیہ صاحبہ دام ظلہا العالی ، اولاد خاص طور پر بڑے صاحب زادے عزیز القدر محمد احمد سلمہٗ اور دیگر متعلقین کو صبر جمیل اور اجرِ جزیل عطا فرمائے۔ آمین۔ بجاہ حبیبہ سید المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے