فلم اور سیریل اسلامی تہذیب کی تخریب کا باعث

تحریر: محمد اورنگزیب عالم مصباحی، گڑھوا جھارکھنڈ (رکن:مجلس علمائے جھارکھنڈ)


مکرمی!
یوں تو مسلم قوموں کی بربادی کے پیچھے ایک بڑی داستان ہے اور اس سے بھی بڑی سازش کار فرما ہے جنہیں یہاں بتانا مقصود نہیں ۔
مختلف جہات سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کی بربادی کے پیچھے مغربی سازش صرف 40 فیصد ہے اور دس فیصد لبرل قسم کے لوگ شامل ہیں جبکہ 20 فیصد وہ منافق شامل ہیں جو مغربی کٹھ پتلی ہیں جو بظاہر مذہب اسلام کے ٹھیکیدار ہیں مگر حقیقتاً وه آستین کے سانپ ہیں جو بتدریج اسلام کو ڈستے ہیں اسلام اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالتے ہیں وہیں باقی کے 30 فیصد تو ہم ہی ہیں جو مغربی اسلام مخالف تہذیب کو اپنا کر اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں ہمارے معاشرے میں ایسی تہذیب کا رواج چل پڑا ہے کہ کئی صدیوں گزرنے کے بعد بھی ہم ابھرنے کے بجائے پستی میں اوندھے منہ چلے جارہے ہیں نہ ہمیں اپنے حال کی فکر ہوتی ہے نہ ہی مستقبل کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے۔
ہماری جو تہذیب بدلی ہے اس میں بھی ان لبرل فکر و خیال کے متحمل افراد کا کردار ہے جنہوں نے مقصد اسلام کو آمریت یا سیاست سے تعبیر کرتے ہیں ۔
مگر سوال یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ حالات حاضرہ میں ہی کیوں پیدا ہو رہے ہیں اور لبرل یا آزادانہ خیال آخر آیا کہاں سے جنہوں نے پورے عالم اسلام کو تباہی کے گڈھے میں پھینک دیا۔
ہمارے اندر اسلامی تہذیب سے بے راہ روی نے ہماری بربادی میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر اسلامی تہذیب کو مٹا کر مغربی یا عریانی تہذیب کو رواج دینے میں میں کچھ تو نفس پرست لوگوں کا ہاتھ ہے مگر زیادہ تر اسلامی تہذیب کی تخریب میں فلم اور سیریل کا رول رہا ہے جو کہ یہود و نصاری کی کامیاب سازش ہے۔
تخریب میں فلموں کا کردار
ہم تو سنتے اور پڑھتے چلے آرہے ہیں کہ صحبت کا اثر انسان پر بہت زیادہ پڑتا ہے اسی لیے کہاوت ہے "صحبت صالح ترا صالح کند” اور ہمارے بزرگوں کا قول بھی ہے کہ چور کے ساتھ مت رہو کہ وہ تمہیں بھی اس میں ملوث کر دے گا اصل میں انسان جس سے گھل مل کر رہتا ہے اس کے اندر اس کی ساری صفات آنے شروع ہوجاتی ہے جس سے گھل مل کر رہتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑتا ہے کہ جو دیکھتے ہیں ان کے اندر وہی سما جاتی ہے۔
اور ٹھیک یہی حال فلم اور سیریل میں ہوتا ہے کہ دیکھنے والا اس قدر مگن ہو جاتا ہے گویا وہ شخص بھی ان فلم یا سیریل میں شامل ہو۔
دماغ پہ اس کا اثر
اس کا اثر دماغ پر یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص اپنے آپ کو اس فلم یا سیریل کا ہیرو یا اس کا جج بن بیٹھتا ہے پھر اس میں خوشی کے موقع پر انتہائی خوش ہوتا ہے کسی لطیفے کی جگہ ٹھٹھا مار کر قہقہے لگاتا ہے وہیں غم کے موقع پر آنکھ سے آنسو گر پڑتے ہیں اتنی ہی پر بس نہیں بلکہ بسا اوقات شائقین ٹی وی پھوڑ دیتے ہیں یا خود کشی بھی کر بیٹھتے ہیں۔
پھر اس میں جو تہذیب دکھائی پڑتی ہے انسان وہی سیکھتا ہے اس میں جو رویہ نظروں میں بستے ہیں اسی کا وہ متحمل ہو جاتا ہے۔
تخریب تہذیب کا کام فلم اور سیریل کے ذریعے صحبت سے ہزاروں گنا زیادہ ہوتا ہے کہ جب فلمی سیریل نہیں تھے تو لوگوں میں تبدیلی کے لیے ایک طویل صحبت کے بعد ہی کسی کے افکار و نظریات تبدیل ہوتے تھے مگر آج کسی کے پوری زندگی کے کردار اس کے افکار و نظریات اس کی تہذیب و تمدن محض دو گھنٹے کے اندر فلم کے ذریعے دکھا دیا جاتا ہے اور حقیقت سے کہیں زیادہ دلچسپ دکھایا جاتا ہے۔ فلم تو کچھ مختصر ہی ہوتی ہے مگر یہی چیز بالتفصیل روزانہ ایک گھنٹے یا دو گھنٹے سو دو سو قسطوں میں دکھا دیا جاتا ہے کہ جسے نہایت دلچسپ اور لطیفوں سے بھر پور (کہ دیکھنے والوں کی اکتاہٹ کا باعث نہ ہو) بنایا جاتا ہے۔
جس سے ہمارا معاشرہ بوڑھے جوان بیوی بچوں سمیت پوری فیملی دیکھتی ہے۔
اب کس معاشرے کو کتنا بگاڑنا ہے اس کا فیصلہ فلم انڈسٹری کرتی ہے اور اسی کے مطابق اس میں مسالے لگائے جاتے ہیں۔
مثلاً انڈیا میں جو فلمیں بنتی ہیں اس میں ایک خاص مذہب کے ماننے والے کو ہیرو اور باقیوں بالخصوص اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد اور ظالم و جابر ثابت کیا جاتا ہے۔
اب آپ دیکھیں کہ کسی فلمی سیریل میں جو ویلن (یعنی دشمن یا دہشت گرد) کا کردار ہوتا ہے تو اس میں اسلامی نام منتخب کیا جاتا ہے اور اسی طرح اسے نہایت ہی بے ڈھنگا اور عیاش قسم کا انسان دکھایا جاتا ہے ۔
پھر اس میں بتدریج عریانیت داخل کر دی جاتی ہے آپ سوچیں کہ جو بچہ اس قسم کا فلم دیکھے چاہے وہ بچہ مسلم ہو یا غیر مسلم اس کے ذہن میں اسلام دشمنی یقیناً پیدا ہوگی اور وہ سوچے گا کہ اسلام اور مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں اور آگے چل کر وہ اسی سانچے میں ڈھلے گا جس قسم کا وہ فلم دیکھتا تھا ۔
ھمیں تعجب تو تب ہوا جب اپنے محلے میں کچھ بچوں کو دیکھا کہ کسی لکڑی کو لے کر وہ کہہ رہا تھا کہ میں "بالویر ہوں” پھر کچھ نام لے رہا تھا نام تو یاد نہیں مگر ان ناموں کے ساتھ پری لگا ہوا تھا جس سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ کسی جادو کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میں نے کہا یہ کس قسم کا کھیل ہے ان سے پوچھنے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ کسی جادوئی سیریل "بالویر”کو دیکھ کر اس سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنے حقیقی زندگی میں اس قسم کا کھیل کھیلنے لگے تھے میں نے انہیں سمجھایا کہ "جادوئی چھڑی” جیسا کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اور اسلامی تعلیمات پر عمل کے ساتھ کوئی بہترین ہنر سیکھنا چاہئے۔
وہیں کچھ بچے "پب جی "گیم کا شکار ملے جو کسی لکڑی کو لے کر اسے بندوق یا تلوار سمجھتے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیتے تھے میرا دھیان ان پر تب بٹا جب کسی ایک بچے کی رونے کی آواز آئی تو ان سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ کھیل کھیل میں کسی بچے نے اس لکڑی سے مار دیا جسے وہ بالفرض تلوار سمجھ رہا تھا ۔
تو پتہ چلا کہ بچوں کے بگڑنے ،ان کے پڑھائی لکھائی سے دوری ان کے چڑ چڑاپن رویہ، ان سے حسن سلوک کا فقدان اور لڑائی جھگڑے کی عادت کے اسباب فلم ٹی وی سیریل اور گیمز ہیں۔
اس کا حل
ان ساری برائیوں سے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ بچوں کو صرف وہی چیزیں دی جائیں جس کی انہیں سخت ضرورت ہو پھر ان پر کڑی نظر رکھیں اور ہفتے میں ایک دن نصیحت کریں اور سمجھائیں کہ ہمارا مقصد کیا ہے انہیں دنیا کی حیثیت دکھائی جائے اور خاص طور سے اپنے گھر میں ٹی وی تو ہرگز نہ رکھیں اور موبائل کو استعمال کریں تو صرف اسے ضرورت ہی سمجھیں اسے دل بہلانے کا آلہ نہ سمجھیں پھر جب تک بچے بالغ اور سمجھدار نہ ہوں انہیں موبائل نہ دیں اور بلوغ کے بعد بھی سخت ضرورت ہو تو ہی موبائل دیں ورنہ اس سے پرہیز کریں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آج بھی ہو جو ابراھیم سا ایماں پیدا

تحریر : سراج احمد آرزو حبیبی قربانی عربی زبان کے لفظ(قرب) سے مشتق ہےجسکا معنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے