غزل: روز آتی ہے وہ خیالوں میں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان

روز آتی ہے وہ خیالوں میں
اُلجھا کے رکھتی ہے سوالوں میں

آج چاروں طرف اندھیرا ہے
آپ آ جاؤ اب اجالوں میں

دے نہ پائے گا وہ جواب کبھی
پھنس گئے چند وہ سوالوں میں

چھوڑ دوں گا میں شاعری کرنا
جو غزل نا چَھپی رسالوں میں

تذکرہ کر رہے ہو شاعری کا
میں بھی آنے لگا حوالوں میں

ان کا فیضان اندازِ گفتگو ہے الگ
بات کرتے ہیں وہ مثالوں میں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد

سعادت گنج/بارہ بنکی:6اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز) بزمِ ایوانِ غزل کا ماہانہ طرحی مشاعرہ آئیڈیل انٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے